توہین قرآن کا الزام۔۔۔
سوات میں آگ بھڑک اٹھی ،سیاح کو زندہ جلا دیا گیا ۔۔علاقہ بدستور کشیدگی اور خوف کے حصا ر میں۔۔
سوات: (مانیٹرنگ ڈیسک۔یہ پاکستان) صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے مدین میں توہین قرآن کے الزام میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے سیاح کے قتل کے بعد مقامی پولیس کی جانب سے دو مقدمات درج کیے گئے ہیں۔مالاکنڈ ڈویژن کے آر پی او محمد علی خان کا کہنا ہے کہ سوات میں توہین مذہب کے اس واقعے پر پولیس کی تحقیقات جاری ہے۔پولیس کی جانب سے دو ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں جن میں سے ایک مقتول پر توہین مذہب کے الزام کے بارے میں ہے جبکہ دوسری ایف آئی آر مشتعل ہجوم کے تھانے پر حملے سے متعلق ہے۔

اگرچہ سوات میں کشیدگی کے بعد اب راستے کھول دیے گئے ہیں لیکن علاقے میں بدستور خوف پایا جاتا ہے اور پولیس کی بھاری نفری بدستور تعینات ہے۔جمعرات کو مدین میں مشتعل ہجوم نے توہینِ قرآن کے الزام میں پولیس کی جانب سے حراست میں لیے گئے سیاح کو زبردستی تھانے سے نکال کر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ہلاک کر دیا تھا۔
توڑ پھوڑ اور تشدد کے دوران 11 افراد زخمی ہوئے جن میں بیشتر کی عمریں 13 سال سے 24 سال کے درمیان بتائی گئیں جبکہ چند ایک کی عمریں 34 اور 35 سال بیان کی گئی۔ضلعی پولیس افسر کے مطابق مذکورہ شخص مقامی ہوٹل میں 18 جون کو آیا تھا اورجمعرات کی شام مقامی تھانے کو اطلاع موصول ہوئی کہ ہوٹل میں مقیم ایک شخص توہینِ مذہب کا مرتکب ہوا ہے جو اب رکشہ میں سامان لے کر کہیں جا رہا ہے جس پر ایس ایچ او موقع پر پہنچے تو اس وقت تک بڑی تعداد میں لوگ مبینہ ملزم کا تعاقب کرتے ہوئے ان کے پیچھے پہنچ چکے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے مشتعل ہجوم سے مبینہ ملزم کو بچانے کے لیے کوششیں کیں اور انھیں کہا کہ ان کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی لیکن ہجوم میں شامل لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ یہ شخص ان کے حوالے کیا جائے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے بعد اس بارے میں بیان جاری کیا جائے گا۔پولیس حکام کے مطابق ’پولیس کے پیچھے پیچھے مشتعل ہجوم بھی تھانے آن پہنچا تاہم ملزم کی جان بچانے کے لیے تھانے کے گیٹ بند کر دیے گئے اوراسے قریب ہی ایک کوارٹر میں منتقل کر دیا لیکن ہجوم وہاں بھی پہنچ گیا۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران علاقے کی مساجد میں اعلانات کیے گئے جس پر بڑی تعداد میں لوگ تھانے کے باہر پہنچ گئے اور سیاح کو ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہجوم میں شامل افراد نے پہلے تھانے پر پتھراؤ کیا اور پھر دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہو گئے اور تھانے کی عمارت اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور اس دوران پولیس اہلکاروں کو بھی معمولی چوٹیں آئیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ہجوم کو تھانے پر دھاوا بولتے اور املاک کو نذرِ آتش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’مذکورہ شخص کو پولیس نے اپنی حراست میں لیا تھا مگر مشتعل ہجوم تھانے پر حملہ کر کے اسے تشدد کرتے ہوئے تھانے سے باہر لے آیا اور قتل کر دیا‘۔
اس واقعے کی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں لوگوں کو ایک جلتی ہوئی لاش کے اردگرد جمع ہو کر مذہبی نعرے بازی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
مدین میں توہین مذہب کے الزام میں مارے جانے والے 36 سالہ شخص کا تعلق ضلع سیالکوٹ سے بتایا گیا ہے اور ان کے آبائی علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔پنجاب پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مقتول کے گھر کے باہر پولیس کی نفری تعینات کردی گئی ہے تاکہ کوئی نقص امن کا واقعہ پیش نہ آئے۔ترجمان کے مطابق مذکورہ شخص کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ روزگار کے لیے کچھ عرصہ بیرونِ ملک بھی مقیم رہ چکا تھا اورطلاق یافتہ تھا۔
ہلاک کیے جانے والے شخص کے اہلخانہ کی جانب سے اس سے لاتعلقی کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ان کی والدہ نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ان کے بیٹے کا ڈیڑھ سال سے اپنے گھر والوں سے کوئی تعلق یا رابطہ نہیں۔
والدہ نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ان کے شوہر30 سال قبل وفات پا گئے تھے۔ بیرون ملک سے واپس آنے کے بعد اس کی شادی کروائی تاہم یہ ہم سے لڑائی جھگڑا کرتا رہا جس کے نتیجے میں اس کے حصے کی جائیداد اسے دے دی اور قطع تعلق کرلیا۔
مذکورہ شخص کی والدہ اور بھائی نے جائیداد کے تنازعے پر 2022 میں اس کے خلاف تشدد کا مقدمہ بھی درج کروایا تھا۔خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے سیاح کی ہلاکت کا نوٹس لے کر آئی جی سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے
۔
وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق علی امین گنڈاپور نے آئی جی پولیس کو صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے شہریوں سے پرامن رہنے کی اپیل بھی کی ہے۔
خیال رہے کہ مدین سوات کے مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے اور آج کل اس علاقے میں عید کی تعطیلات کی وجہ سے سیاحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔
پاکستان میں توہینِ مذہب کے الزام کا سامنا کرنے والے افراد پر مشتعل ہجوم کے حملے یا ایسے ہجوم کے ہاتھوں ہلاکت کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ توہین مذہب کا الزام پرتشدد ہجوم کو جمع کرنے کا ایک عام ذریعہ بنتا رہا ہے۔
گذشتہ ماہ ہی صوبہ پنجاب کے علاقے سرگودھا میں قرآن کی توہین کا الزام لگائے جانے کے بعد مشتعل ہجوم نے نہ صرف ایک گھر اور کارخانے کو نذرِ آتش کیا بلکہ ایک شخص کو پولیس کی موجودگی میں بُری طرح تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
اس سے قبل 2023 میں پہلے فروری کے مہینے میں پنجاب میں ہی ننکانہ صاحب کے علاقے واربرٹن میں مشتعل ہجوم نے توہینِ مذہب کے الزام کا سامنا کرنے والے ایک شخص کو پولیس کی حراست سے چھڑوا کر ہلاک کر دیا تھا۔
چند ماہ بعد اگست کے مہینے میں جڑانوالہ میں توہینِ قرآن کے الزامات کے بعد مسیحی آبادیوں پر حملے کے واقعات پیش آئے جن میں مشتعل ہجوم نے 19 گرجا گھروں اور مسیحی عبادت گاہوں کے علاوہ 86 مکانات کو آگ لگائی اور ان میں توڑ پھوڑ کی تھی۔






