ستائیسویں آئینی ترمیم منظورتوہو چکی۔۔۔
درست ہیں یا جمہوریت کی جیت ہوئی؟ عدلیہ کی آزادی اور تقسیم کے خدشات
اپنے آپ کو آئین کے وارث قرار دینے والی پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اس ترمیم پر بات کرتے ہوئے جذباتی ہوئےجیسے انہوں نے ان غلطیوں کودرست کر لیا ہے جوان کے نانا ذوالفقار بھٹوسے آئین کی ترتیب بناتے سرزد ہوگئی تھیں۔
نوشین نقوی
ستائیسویں آئینی ترمیم – عدالتِ عظمیٰ کا نیا دائرہ بنا چکی ہے ۔اس کے نتائج کیا ہوں گے،ابھی اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے ۔برسر اقتدار سیاسی جماعتوں کے قائدین اسے جمہوریت کی فتح قرار دے رہے ہیں حتی کہ اپنے آپ کو آئین کے وارث قرار دینے والی پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اس ترمیم پر بات کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے،جیسے انہوں نے ان غلطیوں کو پکڑ کے درست کر لیا ہے جوان کے نانا ذوالفقار بھٹوسے آئین کی ترتیب بناتے سرزد ہوگئی تھیں۔
پاکستان کی پارلیمان سے منظور کی گئی 27ویں آئینی ترمیم نے ملکی آئینی ڈھانچے، بالخصوص سپریم کورٹ آف پاکستان کے دائرہ اختیار، میں ایک تاریخی تبدیلی کا آغاز کیا ہے۔ یہ ترمیم ملک کے عدالتی منظرنامے پر گہرے نقوش چھوڑ رہی ہے اور ایک نئی آئینی بحث کو جنم دے چکی ہے۔تحریک انصاف واحد اپوزیشن جماعت ہونے کے باوجود اس ترمیم پر سوائے شور شرابے کے کچھ نہیں کر پائی۔کئی بار یوں لگتا ہے جیسے وہ بہتر انداز میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم کا کرداد ادا کر رہی ہوں جس کا مقصد صرف باتوں کے شور میں بڑے عوامی مسائل سے نظر ہٹانا ہو۔
عدالتِ عظمیٰ کا وجود: خاتمہ یا مرکزیت کی منتقلی؟
بعض حلقوں میں یہ تاثریا خوف پایا جارہا ہے کہ اس ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کا وجود ختم کر دیا ہے،کاغذی طور پر یہ درست مفروضہ نہیں لگتا،کہنے کوسپریم کورٹ آئینی طور پر قائم ہے اور ملک کی سب سے بڑی اپیلیٹ کورٹ کے طور پر برقرار رہے گی۔ تاہم، اس ترمیم کا بنیادی مقصد عدالتِ عظمیٰ کے آئینی اختیارات کی مرکزیت کو تبدیل کرنا ہے۔سپریم کورٹ کوبنیادی طور پر دیوانی، فوجداری، اور عام نوعیت کے معاملات کی اپیل کورٹ تک محدود کر دیا گیا ہے۔
آئینی امور کی علیحدگی: آئین کی تشریح اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے مابین پیدا ہونے والے اہم آئینی تنازعات کا دائرہ اختیار سپریم کورٹ سے نکال کر نو تشکیل شدہ وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کر دیا گیا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت (FCC): ایک نیا آئینی انجن
ستائیسویں آئینی ترمیم کی بنیاد وفاقی آئینی عدالت کا قیام ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام عدالتِ عظمیٰ پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے اور آئینی معاملات میں خصوصی مہارت کو بروئے کار لانے کے لیے ضروری تھا۔ تاہم، ناقدین اس پیش رفت کو “عدلیہ کی آزادی پر منظم حملہ” قرار دے رہے ہیں،یہاں تک کے سپریم کورٹ کے سنئیر ججز منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ نے بھی آئینی عدالت کے قیام پر عوام کی قانونی رہنمائی کرنے کی بجائے پوری مراعات حاصل کرتے ہوئے استعفے دے کر گھر کی راہ لی۔یہ ایسی قانونی بد دیانتی ہے جسے کبھی معاف نہیں کیا جانا چاہئے۔بھئی آپ تب بھاگ لئے جب آپ کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔آپ نے شعرو شاعری کرتے ہوئے جو استعفے لکھے وہ آپ کا کام نہیں تھا سسٹم میں رہتے ہوئے عوام کو آئین کی تشریح مسلسل بتاتے رہنا آپ کی ڈیوٹی تھی۔
جب کہ قانونی اور سیاسی تجزیہ کاروں کا بڑا اعتراض یہ ہے کہ اختیارات کو تقسیم کر کے عدلیہ کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں ایک دوہری عدالتی نظام کی بنیاد رکھ رہا ہے، جس سے نہ صرف آئینی عدالتوں کے مابین توازن بگڑے گا بلکہ ایگزیکٹو کے لیے عدالتی معاملات میں مداخلت کا ایک نیا دروازہ بھی کھل جائے گا۔
اس کے علاوہ، ججز کی تعیناتی اور منتقلی کے میکانزم میں تبدیلی کے نظام سےعدلیہ کی آزادی اور ججز کی سینیارٹی کے اصول متاثر ہوں گے اور طاقت کا توازن بگڑے گا جس کی لاٹھی اس کی بھینس موافق اختیارات چند ہاتھوں میں ہوں گے۔
عسکری ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں
عدالتی امور کے ساتھ ساتھ، یہ ترمیم پاکستان کے دفاعی کمانڈ کے ڈھانچے میں بھی دور رس تبدیلیاں لاچکی ہے۔
ترمیم میں ایک ہی ادارے کو دئیے گئے اختیارات کا ایسا سمندرنظر آتا ہے جس میں باقی ادارے ڈوبے ڈوبے سے ملیں گے۔ فائیو سٹار رینک کے فوجی افسران کو عمر بھر کے لیے رینک اور مراعات کے ساتھ ساتھ مقدمات میں تاحیات استثنیٰ کی فراہمی سے قانون کی عملداری پر سنجیدہ سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں کہ کوئی بھی شخصیت قانون کے دائرے سے باہر ہو تو کیا اسے لاقانونیت نہیں سمجھا جائے گا؟
ستائیسویں آئینی ترمیم کا نفاذ پاکستان میں آئینی تاریخ کا ایک نیا، پیچیدہ اور غیر یقینی باب ہے۔ اگرچہ حکومت اسے عدالتی اصلاحات قرار دے رہی ہے، لیکن عدلیہ کی آزادی، اختیارات کی غیر متوازن تقسیم اور ملنے والے تاحیات استثنوں نے ملک میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔جس کا انجام جو بھی ہو بہرحال یہ عوام کے سیاسی شعور کا سفر ہے جس میں یقینا وقت کے ساتھ تبدیلی اور بہتری آئے گی۔






