بجٹ میں غریبوں کا خیال رکھیں۔آصف زردادی کی وزیر اعظم کو ہدایت
ملاقات کے دوران سربراہان مملکت نے آئندہ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں پر بھی بات کی، صدر آصف زرداری نے وزیر اعظم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں غریب اور متوسط طبقات کا خاص خیال رکھیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے صدرکو حالیہ دورہ چین کے بارے میں بھی آگاہ کیا، صدر نے وزیر اعظم کو ملکی ترقی اور معاشی اہداف کے حصول میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
اسلام آباد: (یہ پاکستان) صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعظم شہباز شریف پر بجٹ میں غریب اور متوسط طبقات کا خاص خیال رکھنے کا زور دیا ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایوان صدر میں ملاقات کی جس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات احسن اقبال بھی موجود تھے۔
دونوں سربراہان مملکت کی ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی معاشی اور مالی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس کے علاوہ آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے تجاویز پر گفتگو کی گئی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے صدر زرداری کو حالیہ دورہ چین کے بارے میں بھی آگاہ کیا، صدر نے وزیر اعظم کو ملکی ترقی اور معاشی اہداف کے حصول میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
ملاقات کے دوران سربراہان مملکت نے آئندہ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں پر بھی بات کی، صدر آصف زرداری نے وزیر اعظم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں غریب اور متوسط طبقات کا خاص خیال رکھیں۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت ساڑھے 18 ہزار ارب روپے سے زائد کا بجٹ آج پیش کرے گی، وفاقی بجٹ میں دفاع کیلئے 21 سو ارب روپے، قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کیلئے 97 سو ارب رکھے گئے ہیں، حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران ترقیاتی منصوبوں کیلئے 1500 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
بجٹ میں توانائی کے شعبے کیلئے 253 ارب، انفرا سٹرکچر کیلئے 827 ارب روپے، توانائی شعبے کیلئے 800 ارب سبسڈی، واٹر ریسورسز کیلئے 206 ارب، ٹرانسپورٹ اور مواصلات کیلئے 279 ارب روپے مختص کیے ہیں، بجٹ میں جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 3.6 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
بارہ ہزار 970 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف مقرر
آئندہ مالی سال ایف بی آر کیلئے 12 ہزار 970 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، ایف بی آر کو 3720 ارب روپے کا اضافی ریونیو جمع کرنا ہو گا، رواں مالی سال کی نسبت ڈائریکٹ ٹیکس 3452 ارب اور کسٹمز ڈیوٹی 267 ارب روپے زائد ہو گی۔
ان لینڈ ریونیو کے ٹیکسز کا حجم 11 ہزار 379 ارب، ڈائریکٹ ٹیکسز کا حجم 5 ہزار 512 ارب روپے ہو گا، انکم ٹیکس کا حجم 5 ہزار 454 ارب، انکم ٹیکس حجم میں اضافی 1773 ارب روپے کا ہدف دیا گیا ہے، 2500 ارب روپے کے ریونیو اقدامات بھی پہلی بار متعارف کرائے ہیں۔
مالی سال 25-2024 ٹیکس تجاویز میں جائیداد خریدنے پر ایڈوانس تین سلیب میں کیپٹل ویلیو ٹیکس لینے کی تجویز بھی شامل کی گئی ہے، فائلر کو پانچ کروڑ کی جائیداد خریدنے پر تین فیصد ،نان فائلر کی ٹیکس کی شرح 6 فیصد ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پانچ سے دس کروڑ کی جائیداد پر چار فیصد ٹیکس نافذ کرنے کا امکان ہے جبکہ نان فائلر کی ٹیکس کی شرح 12 فیصد طے کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے ، دوسری جانب دس کروڑ سے زائد کی جائیداد پر پانچ فیصد ٹیکس لگنے اورنان فائلر کے لئے ٹیکس کی شرح 15فیصد نافذ ہوسکتی ہے۔







