قصور ویڈیو اسکینڈل۔۔۔۔۔۔تین مرکزی مجرم بری

اس سے قبل 18 اپریل 2016 کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے قصور میں بچوں کے ساتھ بدفعلی اور زیادتی میں ملوث دو ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ نے 2015 کے قصور ویڈیو اسکینڈل کے 3 مرکزی مجرموں کی عمر قید کے خلاف اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے انہیں بری کر دیا۔
جسٹس شہرام سرور چوہدری کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اپیلوں پر سماعت کی، مجرموں کی جانب سے عابد حسین کچھی اور سہیل اصغر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے عابد حسین کچھی نے بتایا کہ عدالت نے ان کے کلائنٹس کو رہا کر دیا ہے۔
وکیل کے مطابق اس کیس کے 6 مرکزی ملزمان تھے، جن میں سے 3 کو پہلے چھوڑ دیا گیا تھا، اور باقی 3 کو آج رہا کیا گیا ہے۔وکیل نے ملزمان کی رہائی کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ ویڈیو کے فرانزک آڈٹ میں حکام جیل میں سزا کاٹنے والے مجرموں کو شناخت کرنے میں ناکام رہے۔
مزید برآں، انہوں نے استدلال کیا کہ ملزمان پر لاگو انسداد دہشت گردی ایکٹ کی بعض شقیں صحیح معنوں میں لاگو نہیں ہوتیں، اور میڈیکل رپورٹس پیش کردہ شواہد کی تصدیق نہیں کرتیں۔
تاہم، عدالتی حکم اب تک نہیں آیا، جو وکیل کے بیان کی تصدیق کے لیے انتہائی ضروری ہے۔واضح رہے کہ 13 فروری 2008 کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے قصور ویڈیو اسکینڈل کیس میں تین مجرموں کو عمر قید اور 3، 3 لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں سنائی تھیں۔مذکورہ مجرموں کو تھانہ گنڈا سنگھ میں درج کی گئی ایف آئی آر نمبر 219/15 میں مجرم ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی تھی۔
اس سے قبل 18 اپریل 2016 کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے قصور میں بچوں کے ساتھ بدفعلی اور زیادتی میں ملوث دو ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

خیال رہے کہ 2015 میں یہ رپورٹس منظر عام پر آئیں تھی کہ قصور سے پانچ کلو میٹر دور قائم حسین خان والا گاؤں کے 280 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ اس دوران ان کی ویڈیو بھی بنائی گئی جبکہ ان بچوں کی عمریں 14 سال سے کم بتائی گئی تھیں۔

رپورٹس کے مطابق ان بچوں کے خاندانوں کو ویڈیو دکھا کر بلیک میل بھی کیا جاتا تھا اور ان کے بچوں کی ویڈیو منظر عام پر نہ لانے کیلئے لاکھوں روپے بھتہ طلب کیا جاتا تھا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں