غدر2:محبت سرحد کی لکیر سے نہیں ڈرتی
(ویب ڈیسک) فلم شروع سے آخر تک شائقین کو جکڑے رکھتی ہے
آزادی کے بعد پیش آنے والے ملک کی تقسیم کے واقعہ نے دونوں جانب متعدد لوگوں کی زندگی بدل کر رکھ دی تھی۔ ایک طویل عرصے تک اس کے زخم کریدے جاتے رہےجس کی وجہ سے جو لوگ اسے بھول نہیں پاتے تھے۔حالانکہ نفرتوں کے اس دور میں پیار بھی پروان چڑھا اور پھلا پھولا۔ ایسے ہی ایک نوجوان کی کہانی ۲۰۰۱ء میں بنائی گئی فلم ’غدر‘ میں پیش کی گئی تھی۔ اسی کہانی کو آگے بڑھاتے ہوئے اب اس کا دوسرا حصہ ’غدر۲‘ بنایا گیا ہے۔فلم کے آغاز میں فلم ’غدر‘ کا تعارف پیش کیا گیا ہےکہ اس میں کیا واقعات پیش آئے اور اسی کی بنیاد پر یہ دکھایا گیا کہ آج اس کا اثرکس قدر باقی ہے۔بتایاگیاملک کی تقسیم کے وقت جس تارا سنگھ (سنی دیول) نے سکینہ(امیشا پٹیل)کو بچایا تھا اور ’ہینڈ پمپ اکھاڑ کر ‘ اسےپاکستان سے دوبارہ ہندوستان لایا تھااب ۱۷؍سالبعد ۱۹۷۱ء میں ان کا بیٹاجیت(اتکرش شرما)جوان ہوچکا ہے لیکن اس کا دل پڑھائی میں نہیں لگتا بلکہ اداکاری کی جانب اس کا رجحان ہے۔لیکن تاراسنگھ چاہتاہےکہ وہ پڑھائی کرے اور اس کیلئے وہ اس کی ماں کی طرح ہاسٹل میں بھیجناچاہتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں جنرل حامداقبال(منیش وادھوا) نےاشرف علی(امریش پوری)کو پھانسی دلوادی۔ اس کے بعد بھی وہ ہندوستان اورہندوستانیوں سے نفرت کرتا ہے۔اسی دوران پاکستان کی جانب سےحملہ کی صورت میں سرحد پرہندوستانی فوجیوں کو ہتھیاروں کی قلت محسوس ہوتی ہے تو تارا سنگھ سمیت چندٹرکوں میں بھر کر ہتھیار سرحد پر پہنچائے جاتے ہیں ۔لیکن حامد اقبال چال چلتے ہوئے پہلے اپنے فوجیوں کو پسپا ہونے کا حکم دیتا ہے لیکن پھر بھرپور حملہ کرکے ہندوستان کے کئی فوجیوں اورٹرک ڈرائیوروں کو گرفتارکروالیتا ہے۔سب سمجھتے ہیں کہ تارا سنگھ بھی گرفتار ہوچکا ہے،اسی غم میں سکینہ بے حال ہوجاتی ہے۔ یہ بات ان کے بیٹےجیت سے دیکھی نہیں جاتی اور وہ جعلی پاسپورٹ اورمسلمان کے حلیہ میں پاکستان چلا جاتا ہے۔وہاں ایک پاکستانی لڑکی اس سے پیارکرنے لگتی ہے۔اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہ مناظر فلم کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔
سنی دیول نے جس قسم کی اداکاری اس سے پہلے والی فلم میں کی تھی اسی کو جاری رکھا ہے۔اور جیسا کہ سب جانتے ہیں وہ بھاری بھرکم ایکشن سین کرنے میں ماہر ہیں اور اسی مہارت کاثبوت انہوں نے اس فلم میں بھی دیا ہے۔سکینہ کے روپ میں امیشا پٹیل نےبھی عمدہ اداکاری کی ہے۔اتکرش شرما نے بھی اچھی اداکاری کی ہے لیکن انہیں ابھی مزید پختہ ہونے کی ضرورت ہے۔
انل شرماجو کہ سنی دیول کے ساتھ کئی فلمیں بنا چکے ہیں یہ بھی اچھی فلم بنائی ہے لیکن اس کا موازنہ مغل اعظم اور شعلے سےنہیں کیا جاسکتا جیسا کہ وہ’غدر‘ کاان سے موازنہ کرچکے ہیں ۔
بھارت جیسے سیکولر ہونے کا دعویدارملک جہاں مذہبی جنون ہمیشہ ہی تروتازہ نظر آتا ہے اور اسے فلموں کے ذریعہ ہوا دینےکی کوشش کی جاتی رہی ہے لیکن اس فلم کے ذریعہ محبت اور بھائی چارگی کا ثبوت پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہےخاص طور پر وہ ڈائیلاگ کہ’’ہندوستان مسلمانوں کا ہے …‘‘ایک مثبت پیغام دیتانظر آتا ہے ۔پاکستان ہندوستان کو ایسی فلمیں بنانے پت توجہ دینی چاہئے جن سے نفرت کاماحول ختم ہو اور محبتیں عام ہوں۔








