امتیاز نے ’’چمکیلا‘‘کو امر کر دیا۔۔۔
امر سنگھ چمکیلا ،بالی وڈ کو واپس عروج کی طرف لے جانے والی فلموں میں شمار ہوگی ۔۔۔۔۔پرینیتی اور دلجیت نےبہترین کردار نبھائے۔
’’چمکیلا‘‘احساس کمتری اور برتری ۔۔۔۔ہونی کی خوشی ۔۔۔کھونے کا خوف ساتھ ساتھ چلنے کی کہانی ہے ۔۔۔بہترین فنکاروں کے ساتھ دیوتا سمان اے آر رحمن کا میوزک۔
نوشین نقوی۔لاہور
عام آدمی عام راستے سے ہی خاص بنتا ہے بس ۔۔۔”چمکیلا“ بالی وڈ کی کہانی ہے، عام سے خاص بننے کے سفر میں ایک پنجابی کی کہانی ہے ۔۔بھارت کے اندر مذہبی جنونیت کی کہانی ہے،مذہب بازی کا شکار ہوتے فنکاروں کی کہانی ہے۔آپ اور مجھ جیسے ایسے عام لوگوں کی کہانی ہے جو ہر گیت سنتے ہیں ہر فلم دیکھتے ہیں لیکن چاہتے ہیں لوگ سمجھیں ہم نیک ہیں ہم فلمیں نہیں دیکھتے ،ہم ایسے گیت نہیں سنتے جن میں ویسی زبان استعمال ہوجیسی ہماری اصلی سوچ ہے ۔اگر کسی میں فلم ہیرو ،ہیروٸین کے ساتھ ڈاٸریکٹر،راٸیٹر، میوزیشن، پروڈیوسر سب بولتے، گاتے،جھومتے ،ہنستے، روتے، جیتے اور مرتے اکٹھے نظر آٸیں،اسے کامیابی سے نہیں روکا جا سکتا۔۔۔۔”چمکیلا“ کامیاب ہوچکی ہے۔کیونکہ عام لوگ اسے اپنی کہانی سمجھ رہے ہیں۔ایک فیکٹری مزدور، چھوٹی ذات کا ٹھکرایا ہوا نو دولتیا،فنکار کا باپ،گائوں کی ایسی بڑھیا جو کبھی بھی غصے میں آ کے سب کا پول کھول دے گی اور بولے گی’’اصل میں تم سب گندی باتیں کرتے ہو،گندی فلمیں دیکھتے ہوں مگر چھپ چھپ کے ‘‘۔
’’چمکیلا‘‘غریبوں سے پیدا ہوئے ہر فنکار کی کہانی ہے جسے کبھی بھی مذہب کا شکار کیا جاسکتا ہے۔مذہب کارڈ سے کھیلنے والے چغد جو کسی بھی سر میں گولی مروا کے سوچ کا قتل کرنا معمولی کھیل سمجھتے ہیں،کی کہانی ہے۔
ایک ایسا باپ جسے نیچ سمجھ کے کسی نے اپنے برابر نہیں بیٹھنے دیا لیکن جیسے ہی بیٹا اس کی مٹھی میں چند نوٹ تھماتا ہے تو وہ خوشی خوشی خود کو مذہب کے شکنجے سے آزاد کروا کےروایتوں سے ایک قدم پیچھے ہٹانے میں عار نہیں سمجھتا۔۔۔

”چمکیلا“معشیت کی کہانی ہے ،ضرورت کی کہانی ہے۔۔۔بچوں کی لاش پر کھیلتے ان کی الماریوں سےمال نوچتے حقیقت پسند،والدین کی کہانی ہے۔
”چمکیلا“کے کردار میں سب اچھا نہیں ہے وہ ویسا ہی ہے جیسا کوئی غریب خواب دیکھنے والا ہوتا ہے جو اپنے راستے میں آئی رکاوٹوں کو دور کرنا اخلاقی برائی نہیں سمجھتا جو دوستوں کی لاشوں سے گزر کے پیسے اور کامیابی کوہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتا ہے۔جو پرانے رشتوں کو دولت سے خریدکر رکھ لیتا ہے اور نئے رشتے صرف لوگوں کے ساتھ بناتا ہے جواس کے دوکو چار کر سکیں جو اسے زندگی میں آگے لے جانے میں مددگار ہو سکے۔۔۔۔
”چمکیلا“ مجھ جیسے کسی عام آدمی کی کہانی ہے جو موت سے ڈرتے ڈرتے اچانک ڈرنا چھوڑ دیتا ہے اوروہ آجاتی ہے ۔
”چمکیلا“ ہمارے ان لوک گیتوں کی کہانی ہے جن پر ہم اپنے گھروں میں ناچتے گاتے ہیں،مگر دھیان دینے پر شرم آنے لگتی ہے۔
امتیاز نے بہترین فلم بناٸی ہے۔۔۔جس میں احساس کمتری اور برتری ۔۔۔۔ہونی کی خوشی ۔۔۔کھونے کا خوف ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔۔۔بہترین فنکاروں کے ساتھ دیوتا اے آر رحمن کا میوزک۔۔۔کمال ہے ۔

بر صغیر کے لوگوں کا فلموں سے ہمیشہ دل کا رشتہ رہا ہے۔سرحد کے اس پار کی بات ہو یا پھر اس بات کی پردے پر ناچتے ،گاتے،ہنستے،روتے،بھاگتے دوڑتے کرداروں نے پردے کے سامنے بیٹھے شائقین کے ساتھ دل روح کا رشتہ جوڑے رکھا ہے۔
گزشتہ کچھ عرصہ سے جانے کیوں یہ باز گشت سنائی دینے لگی کہ بس بالی وڈ’رہ‘ گیا ہے،اب وہ پہلے سی بات کہاں،انڈیا کی فلموں میں فحاشی کے علاوہ کچھ نہیں بچا، پروپیگنڈا فلموں کا روایتی مصالحہ لوگوں کو بور کرنے لگاتو بڑے بڑے اسٹار خوف کھانے لگے۔۔۔لیکن بھارتی فلم بین ہار مانتے ہیں نہ ہی فلمیں بنانے والے۔۔۔۔جہاں شاہ رخ خان،عامر خان اور سلمان خان کی فارمولا فلم نے بالی وڈکو دوہزار تئیس میں سہارا دیا وہیں رنبیر کپور کی ’اینیمل‘سطحی کہانی کے باوجودشائقین کی جیبیں خالی کروانے میں سب سے آگے نکل گئی۔
بالی وڈ کی فلموں کی خاص بات یہ ہے کہ وہاں ہر طرح کی فلم بنانے والے اور ہر طرح کی فلم دیکھنے والے موجود ہیں۔اس لئے جس ترکیب میں جو بھی پک جائے بک جاتا ہے مگر جانے کیوں لگتا ہے کہ سال دوہزار چوبیس ’’چمکیلا‘‘ کا سال ہوگا۔
’’چمکیلا‘‘کے ہدایت کار امتیاز ہیں۔جنہوں نےثابت کیا ہے کہ وہ اسٹار ڈائریکٹر ہیں لوگ ان کی فلمیں کسی ستارے کے لئے ان کے لئے دیکھنے سینما گھروں کا رخ کرتے ہیں۔’’چمکیلا‘‘کا کردار نبھاتے دلجیت دوسانجھ اور پرینیتی کردارکو جس طرح نبھا گئے ہیں ڈر ہے وہ اس چھاپ سے اب نکل پائیں گے یا نہیں؟
سب سے بہترین بات یہ ہے فلم نیٹ فلیکس پر دستیاب ۔۔۔دیکھئے،مزہ لیں،کرداروں کے ساتھ سانس لیں۔ناچیں گائیں وہ سب گیت سنیں جو آپ چھپ چھپ کے سنتے ہیں۔







