غزہ کے الشفا ہسپتال میں اسرائیلی فوجی ٹینکوں سمیت داخل
ویب ڈیسک:امریکہ نے کہا ہے کہ اس کی انٹیلیجنس سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق حماس کا غزہ شہر کے الشفا ہسپتال کے نیچے کمانڈ سینٹر ہے۔نیشنل سکیورٹی کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ حماس کا وہاں اسلحے کا ذخیرہ ہے، جہاں سے اس نے اسرائیل پر حملے کی تیاری کر رکھی تھی۔یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے اپنے قریبی اتحادی اسرائیل کے ان دعوؤں کی حمایت کی ہے کہ حماس اپنے فوجی اڈوں کے لیے ہسپتالوں کو استعمال کر رہا ہے۔ حماس نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔
امریکی بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب اسرائیلی پر دنیا بھر کا یہ دباؤ تھا کہ وہ ہسپتال میں پھنسے عام شہریوں کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنائے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ ہسپتال کے قریب شدید لڑائی سے الشفا ہسپتال کا ہر صورت میں تحفظ یقینی بنایا جائے۔برطانیہ کے وزیراعظم رشی سونک نے کہا ہے کہ اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنی ہو گی۔اس سلسلے میں امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کا فون پر رابطہ ہوا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے حماس کی طرف سے یرغمال بنائے گئے افراد، جن میں متعدد بچے اور امریکی شہری بھی ہیں، کی محفوظ رہائی سے متعلق جاری کوششوں سے متعلق تفصیل سے بات کی ہے۔غزہ کی الشفا ہسپتال، جو اس وقت اسرائیلی فوج کے محاصرے میں ہے، میں اس وقت ہزاروں مریض اور عام شہری پناہ لیے ہوئے ہیں۔
تاہم یہ اندازہ تھوڑا مختلف ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اس سے قبل منگل کو کہا تھا کہ اس وقت الشفا ہسپتال میں 700 مریض زیر علاج ہیں، 400 عملے کے افراد ہیں جبکہ 3000 عام شہری یہاں جنگ سے بچنے کے لیے پناہ لیے ہوئے ہیں۔
حماس کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اس وقت ہسپتال کے اندر کم از کم 2300 افراد موجود ہیں، جن میں 650 مریض، دو سو سے پانچ سو تک عملے کے افراد اور تقریباً 1500 تک عام شہری موجود ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے غزہ کی الشفا ہسپتال میں اسرائیلی فوج کے داخلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ہسپتال میں فائرنگ اور مسلح لڑائی نہیں دیکھنا چاہتا۔وائٹ ہاؤس کے نیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم فضا سے ہسپتال پر بمباری کی حمایت نہیں کرتے اور نہ ہی ہسپتال میں جہاں معصوم، بے سہارا اور مریض زیر علاج ہیں مسلح لڑائی نہیں دیکھنا چاہتے۔‘
اس بیان میں امریکی صدر جو بائیڈن کے گذشتہ روز کے بیان کو دہرایا گیا ہے کہ ہسپتال اور مریضوں کو ہر صورت تحفظ ملنا چاہیے۔غزہ کے الشفا ہسپتال میں اسرائیلی فوجی ٹینکوں سمیت داخل ہو گئے ہیں۔ اس ہسپتال میں موجود عینی شاہد خادر زاناؤن نے بین الاقوامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ہسپتال کے اندر چھے اسرائیلی فوج کے ٹینک اور سو سے زائد اسرائیلی فوجی دیکھے ہیں۔ وہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے مرکزی گیٹ سے داخل ہوئے۔ ان میں سے کچھ فوجیوں نے ماسک پہن رکھے تھے اور وہ عربی میں چیخ کر کہہ رہے تھے کہ ’کوئی اپنی جگہ سے نہ ہلے‘۔






