افغان مہاجرین کی واپسی، آرمی چیف کا راست اقدام۔۔۔۔ویلڈن

محاسبہ
ناصرجمال

فصیلِ شہر کھڑی ہے جو سر اٹھائے ہوئے
یہ ملک و قوم پہ احسان ہے شہیدوں کا
(سجاد لاکھا)
مغربی سرحدوں اور اندرون ملک، ہمارے آفیسرز، جوان اور شہری روزانہ کی بنیادوں پر شہید ہورہے ہیں۔ ہمارے بہترین کمانڈوز نے سینکڑوں کی تعداد میں شہادتیں پیش کی ہیں۔ گزشتہ روز ہی کرنسل حسن حیدر سمیت کے۔ پی کے ضلع خیبر میں چار جوان شہید ہوئے۔ میانوالی بیس پر حملہ ہوا۔ جو ناکام بنا دیا گیا۔ بلوچستان میں اُرمارہ جاتے ہوئے، کئی جوان شہید ہوئے۔ دہشتگردی کی لہر، پھر سے ملک میں در آئی ہے۔
ہم دہشتگردی کی جنگ سے 45 سال سے نبرد آزما ہیں۔ مگر ضروری ہے کہ ہم اپنا بھی تجزیہ کریں۔ جہاد یا فساد افغانستان، جو بھی تھا۔ اس پالیسی میں ہم نے بطور ریاست اور قوم کیا کھویا کیا پایا ہے۔۔؟
ادارے اور قومیں، مخصوص حالات میں ، مختلف فیصلے لیتے ہیں۔ اس وقت اندرونی و بیرونی عوامل، مفادات، زمینی حقائق، مستقبل، دنیا میں طاقتوں کے ایجنڈے سمیت، بہت کچھ مد نظر رکھ کر پالیسی ترتیب جاتی ہے۔
یقینی طورپر ہم 1971ء کا زخم نہیں بھول سکتے تھے۔ 1977 میں صرف چھ سال پہلے، جو کاری زخم لگا۔ اسے اٹھنا، نکلنا، یقیناً آسان نہیں تھا۔ پڑوسی دشمن ہمیں دولخت کنے کے بعد،ایٹمی تجربات، 1974ء میں کرچکا تھا۔ قومی قیادت کے باہمی اختلافات اپنی جگہ تھے۔ مگر افغانستان کے حوالے سے تو بھٹو صاحب بھی لوپ میں تھے۔ اس زمانے میں افغان نوجوان لیڈر شپ کی اُن سے بھی ملاقاتیں کروائی گئیں تھیں۔ جن میں غالباً حکمت یار بھی شامل تھے۔
تاریخی طورپر دیکھیں تو ہمیں افغانستان سے کبھی ٹھنڈی ہوائیں نہیں آئیں۔ انگریز دور میں جب انڈیا سے دارلعلوم دیوبند کے فتوے کے بعد 28 ہزار خاندان’’کافر دھرتی‘‘ کو چھوڑ کر افغانستان گئے۔ تو اُن مسلمان بھائیوں کے ساتھ افغانی مسلمان بھائیوں نے کیا، کیا۔۔۔۔؟
انھیں لوٹ لیا۔ ان کی خواتین چھین لیں۔ آپ چاہیں بھی تو حقائق نہیں بدل سکتے۔
راجہ رنجیت سنگھ، واحد پنجابی حکمران تھا۔ جس نے کابُل کو سرنگوں کیا۔ اس کےبعد، کسی بھی ’’حملہ آور‘‘ کو اٹک کا پل کراس کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ ہاں البتہ اس کے بعد، چھریاں تیز کرنے اور چھلیاں بیچنے والے، افغان مہاجر ضرور آئے۔
جب انگریز نے راجہ رنجیت سنگھ کو کہا کہ تمہارے اطراف میں ہم، اور درمیان میں تم ہوگے تو ذہین راجہ نے اس بات کو تسلیم کرلیا کہ ’’گورا‘‘ اُس کی حکومت نہیں رہنے دے گا۔ اس نے پاکستانی جنرلوں والی، ’’ڈیپ اسٹریٹیجک ڈپتھ‘‘ والی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا۔ اُس نے اپنے مسلمان جنرل کو بلایا اور کہا کہ یہ صورتحال ہے۔ گورا، اب مجھے حکومت نہیں کرنے دے گا۔ لہٰذا، میں نے کابل کو اپنا دارلحکومت بنانے کا سوچا ہے۔ تمہاری اس پر کیا رائے ہے۔
مسلمان جنرل نے کہا کہ راجہ صاحب، کبھی بھول کر بھی ایسی غلطی نہ کرنا۔ افغان ناقابل اعتبار قوم ہے۔ وہاں، انھیں میں سے اپنا بندہ بٹھا کر ان پر حکومت کرو۔ یہ اپنے محسن کی پشت میں چُھرا گھونپتے دیر نہیں لگاتے۔ راجہ رنجیت سنگھ نے، اپنا پلان بدل دیا۔
سوویت یونین جب افغانستان میں آیا تو افغان مہاجرین دو ملکوں میں سے سب زیادہ گئے۔ سب سے زیادہ لوگ پاکستان میں آئے۔ اُس کے بعد، ایران میں گئے۔ ایرانی بہت سمجھدار تھے۔ وہاں جانیوالے افغانیوں کی اکثریت، فارسی بانوں اور اہل تشیع کی تھی۔
مگر اس کے باوجود، ایران نے اپنے” مومن افغانیوں“ کو کیمپوں سے باہر نہیں نکلنے دیا۔ انھیں کہا کہ کھانا، دوائی اور کپڑا ملے گا۔ رہنا کیمپوں میں ہی پڑے گا۔
پاکستان کی حکومت اور انتظامیہ نے یہیں، سب سے بڑی غلطی کی۔ امریکی ڈالروں کی چمک نے ہماری اسٹیبلشمنٹ اور انتظامیہ کو اندھا کر دیا۔ ہم نے افغانیوں کو پورے ملک میں ٹڈی دل کی طرح، ہرطرف جانے کی اجازت دے دی۔ یہ سب سے خوفناک فیصلہ تھا۔ جس کے بعد، اس ملک میں کلاشنکوف، بم دھماکے اور ہیروئن متعارف کروائی گئی۔ ہمارے بہت سے ناعاقبت اندیش، افسروں نے ذاتی مال بنانے کے چکر میں، اسلحہ اور منشیات پاکستانی معاشرے کے اندر پھیلانے کی کُھلی چھٹی دے دی۔ بے تحاشا ممنوعہ بُور کا اسلحہ، افغانستان جانے کی بجائے، مقامی مارکیٹ میں آیا۔ الیکٹرونکس کی اسمگلنگ سمیت لگژری آیٹم کی پاکستان کُھلی آمد، اسی ضمن میں ہوئی۔
آج بھی اگر آپ افغانیوں کو واپس جانے کے لیے نرم طریقہ اختیار کرناچاہتے ہیں۔ تو آپ نے جو ماضی میں نہیں کیا۔ اب کریں۔ افغان مہاجرین کو دوبارہ سے کیمپوں میں رکھیں۔ ان کو کھانا، دوا، کپڑا، وہاں پر مہیا کریں۔ مگر کیمپوں سے باہر نکلنے کی اجازت نہ ہو۔ وہاں سپورٹس ،تعلیمی اور دوسری سرگرمیاں بھی دیں۔ مگر انھیں کیمپوں میں رکھیں۔ جس، جس، افغانی کی پراپرٹی اور زمین ہے۔ اُسے حکومت پاکستان خرید کر، انھیں ادائیگی” جاتے“ وقت کردے۔ یا، وہ خود بیچنا چاہیں تو بھی اس کی اجازت دے۔ حکومت پاکستان کو یہ کرنا ہوگا۔
ہمارے شہروں میں کرایوں میں نمایاں ترین کمی ہوگی۔ لوگوں کو روزگار ملے گا۔ امن و امان بہتر ہوگا۔ افغانیوں کی بڑی تعداد مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ان کے ڈانڈے الگ سے ہیں۔
قارئین !!!
ہم 45 سال سے ان کی خدمت کررہے ہیں۔ یہاں پناہ دی۔ اب یہ اس گھر کے کیسے مالک بن سکتے ہیں۔ احسان فراموشی کی ایک خوفناک داستان رقم ہورہی ہے۔ ہمارے جوانوں اور شہریوں کی شہادتوں کا ہر کھرہ، افغانستان ہی کیوں جاپہنچتا ہے۔
مجھے افغان مہاجرین کے حوالے سے اعتراز احسن کے بیانیے سے مکمل اختلاف ہے۔ وہ اس ضمن میں مکمل غلط سوچ رکھتے ہیں۔ کرکٹ گرائونڈ سے لیکر، سوشل میڈیا پر افغانی جس طرح سے پاکستانی سرزمین اور پاکستانیوں کو گالیاں دے رہے ہیں۔ وہ ناقابل قبول ہے۔
آج جس آزاد افغانستان پر طالبان فخر کرتے ہیں۔ اس میں، پاکستان کے لاکھوں نوجوانوں کا لہو شامل ہے۔ ہمارے نوجوان تو جہاد کی نیت سے گئے تھے۔ اگر جماعت اسلامی اور دوسری مذہبی جماعتوں اور اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے، ان نوجوانوں کو ڈالروں کے عوض سی آئی اے کو بیچا ہے تو یہ سب کچھ ضیاء الحق، اختر عبدالرحمٰن، حمید گل، قاضی حسین احمد، میاں طفیل، فضل الرحمٰن اور سمیع الحق سمیت دیگر رہنمائوں کی گردن پر ہے۔
ہم نے افغانستان کی جنگ میں اپنے لاکھوں نوجوان، فوجی، شہری جھونک دیئے۔ سینکڑوں ارب ڈالر کی معیشت برباد کردی۔ اپنے اوپر دہشتگرد ریاست جیسے تمغے سجا لئے۔ اپنے ملک کا امن برباد کرلیا۔ سب سے بڑھ کر اپنے معاشرے کو نہ ختم ھونیوالی لسانی اور فرقہ واریت کی جنگ میں جھونک دیا۔ کالا باغ ڈیم، کا منصوبہ بھی انہی چالاکیوں کی نظر ہوا۔ جس کے بعد آبی ذخائر کی تعمیر کو فل سٹاپ لگ گیا۔ صنعتی انقلاب کو برباد کر لیا۔ معاشرے کو تقسیم درتقسیم سے دوچار کرلیا۔
اب ہمیں یہ تحفے مل رہے ہیں کہ پاکستان ’’بڑا اسرائیل‘‘ ہے۔ کابل میں بیٹھا، ایک نمک حرام وزیر، پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ یہ سب وہی لوگ نہیں ہیں۔ جن کے اپنے اور خاندانوں کی پناہ گاہ پاکستان ہے۔ یہاں اربوں کے اثاثے ہیں۔ کیا یہی لوگ اسلحے، منشیات کی تجارت کے سب سے بڑے بینفشری نہیں ہیں۔
پاکستان کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے، الٹا ہمیں گالیاں دے رہے ہیں۔
لاکھوں کی تعداد میں جعلی پاکستانی شناخت اختیار کرنے والے افغانیوں کا محاسبہ ضروری ہے۔ جس ملک میں دیکھو۔ پاکستانی پاسپورٹ پرافغانی پکڑا جاتا ہے۔ منشیات میں بیرون ملک سب سے زیادہ افغانی، پاکستانی پاسپورٹ کے ساتھ پکڑے جاتے رہے ہیں۔ کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ ہمارے پاکستان کے محکمہ پاسپورٹ، رجسٹریشن ، نادرا، سفارتخانوں میں دفتر خارجہ کے ملازمین اور انڈر کور افسران نے ، پاکستان کو بڑے ہی سستے داموں بیچا ہے۔ یہ لاکھوں پاکستانی لوگوں کا روزگار ہڑپ کرگئے۔ انھوں نے زرمبادلہ ، ساکھ، کاروبار سمیت ہر شعبے میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان میں کم از کم پچاس سے ستر لاکھ افغانی ہیں۔ ان کے لئے سب کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔
ساڑھے تین لاکھ بنگالی 52 سال سے پاکستان جانے کا خراب دیکھتے کیمپوں میں مر گئے۔ ان کی تسری نسل آچکی ہے۔
پاکستانی قوم اور اسٹیبلشمنٹ کو اگر کبھی شرم آئے تو وہ چُلو بھر پانی میں ڈوب مرے۔ بے شرموں، اگر کچھ نہیں کرسکتے تھے، تو اُن کا، ون ٹائم، کو اچھا خیال ہی کرلیتے۔
یہ ایک عجیب ملک ہے۔ جن کے حکمران بھی کمال ہی ہیں۔ ان کے نزدیک حب الوطنی گناہ کبیرہ ہے۔ حضور، بس کردیں، بہت ہوچکا۔ کچھ تو ریاست کا بھی سوچیں۔
قارئین!!!
میں آرمی چیف کے افغانیوں سمیت تمام غیر ملکی تارکین وطن کو اپنے ملکوں کو واپس بھجوانے کے فیصلے کی تحسین کرتا ہے۔
آرمی چیف کو چاہیئے کہ وہ فوری طورپر تمام وفاقی اور صوبائی دارلحکومتوں سے افغان مہاجرین کی بے دخلی کے احکامات جاری کریں۔ انھیں فوری طور پر کیمپوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ لیں۔
ہمیں اپنا ملک سیدھا کرنا ہوگا۔ اس ضمن میں کسی کے بیان یا دبائو کو قطعاً خاطر میں نہیں لانا چاہئے۔
جو لوگ افغانیوں کی بات کررہے ہیں۔ اگر اُن میں ذرا بھی قومی غیرت باقی ہے تو ڈھاکہ کے پاکستانی بنگالیوں کے حق میں بھی بات کرلیں۔
بولتے کیوں نہیں میرے حق میں
آبلے۔۔۔ پڑ گئے۔۔۔۔زبان پہ کیا
(جون ایلیا)

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں