ہم جینا چاہتے۔۔۔ہمیں مارنا بند کرو
بھوک پیاس سے بلکتے فلسطینی بچوں
نے دنیا کے سامنے “جھولی” پھیلا دی…..!!!!
امجد عثمانی
خون خوار اسرائیل نے 33روز میں ساڑھے چار ہزار فلسطینی بچے شہید کر دیے۔۔۔۔۔ہر نئے دن کے ساتھ بچوں کی شہادت کے حوالے سے خوفناک انکشافات ہو رہے ہیں۔۔عرب میڈیا کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق غزہ میں ہر روز اوسطاً 136 بچے شہید ہو رہے ہیں۔۔۔۔۔اقوام متحدہ کے مطابق غزہ بچوں کا قبرستان بن چکا ہے۔۔۔۔ ادارہ برائے اطفال کے مطابق غزہ میں ہر 10 منٹ میں ایک جبکہ ہر روز 420 سے زائد بچے اسرائیلی بمباری سے شہید یا زخمی ہو رہے ہیں۔۔۔۔۔۔عرب میڈیا کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ فلسطینی بچوں کی شہادت دنیا کے کسی بھی حالیہ تنازع میں بچوں کی اموات سے سیکڑوں گنا زیادہ ہے۔۔۔۔۔۔رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ شام کی 11 سالہ جنگ میں ایک روز میں 3 بچے اور مجموعی 12 ہزار بچے۔۔۔۔افغانستان کی 12 سالہ جنگ میں روزانہ 2 اور مجموعی 8 ہزار 99 بچے۔۔۔۔یمن کی ساڑھے 7 سالہ جنگ میں 2 روز میں 3 بچے اور مجموعی 3700 بچے۔۔۔۔ عراق کی 14 سالہ جنگ میں 2 روز میں 1 بچہ اور مجموعی 3100 بچے اور یوکرین میں 21 ماہ کی جنگ میں 2 روز میں 1 بچہ اور مجموعی 510 بچے مارےگئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈیفنس فار چلڈرن انٹرنیشنل فلسطین نامی این جی او نے بتایا کہ 1967 سے 7 اکتوبر 2023 سے قبل مغربی کنارے اور غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں جتنے بچے شہید ہوئے، اس سے دوگنا زیادہ بچے ایک ماہ کے دوران شہید ہوچکے ہیں۔۔۔۔۔این جی او کے مطابق 1350 بچے ابھی بھی عمارتوں کے ملبے تلے موجود ہیں اور ان میں بیشتر ممکنہ طور پر شہید ہو چکے ہیں۔۔۔۔۔۔ادھر بارود کی بارش میں جھلستے غزہ کے روح فرسا مناظر سامنے ارہے ہیں۔۔۔۔رفاح میں بے گھر بچوں کی ایسی ہی ایک ویڈیو نے دل چیر دیے ہیں۔۔۔۔۔۔ انسٹاگرام پر شئیر کی گئی ویڈیو میں ایک پلیٹ دال کیلئے ترستے بچوں کو ایک دوسرے پر جھلٹتے دیکھا جاسکتا ہے۔۔۔۔دوسری جانب فلسطینی بچوں نے دنیا کا ضمیر جھنجھوڑنے کے لیے غزہ کے الشفا ہسپتال میں رلادینے والی پریس کانفرنس کی ہے۔۔۔۔چشم فلک نے شاید ہی کسی جنگ زدہ علاقے کے بھوک پیاس سے بلکتے بچوں کی ایسی دہائی سنی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دس سالہ بچے نے ننھے ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل سات ستمبر سے پوری دنیا کے سامنے ہمارے سروں پر بموں کی بارش کر رہا ہے۔۔۔۔۔وہ
ہمیں بھوکا مار رہا ہے۔۔۔۔غزہ میں بہت سے بچے مر چکے ہیں۔۔۔۔بہت سے بچوں نے اپنے خاندانوں کو کھو دیا ہے۔۔۔۔۔اسرائیل دنیا سے جھوٹ بول رہا ہے ۔۔۔۔۔ وہ حماس نہیں ہمیں نشانہ بنا رہا ہے۔۔۔۔۔۔ہمیں نسل کشی کا سامنا ہے۔۔۔۔۔ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کو یہ معلوم ہو کہ ہم زندہ تو ہیں لیکن اسرائیلیوں نے زندگیوں کو مار ڈالا ہے۔۔۔۔۔۔۔ہمارے پاس پانی اور کھانا نہیں۔۔۔۔ ہم ناقابل استعمال پانی پیتے ہیں۔۔۔۔۔انہوں نے دنیا کے سامنے جھولی پھیلا دی کہ ہم جینا چاہتے ہیں۔۔۔۔ہمیں مارنا بند کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں خوراک، دوا اور تعلیم دو۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!







