غزہ پر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا:اسرائیلی فوج
ویب ڈیسک (یہ پاکستان)اسرائیل نے غزہ کے باہر فوجوں کو جمع کرلیا ہے، اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ یہ زمینی، فضائی اور سمندری حملہ ہوگا اور ایک ’اہم زمینی آپریشن‘ بھی کیا جائے گا۔اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے ترجمان جوناتھن کونریکس نے کہا کہ ہم غزہ شہر میں شدید اور مؤثر فوجی کارروائیوں کے آغاز پر ہیں، شہریوں کے لیے وہاں رہنا غیر محفوظ ہوگا۔ایران اور لبنان کی حزب اللہ تحریک نے خبردار کیا ہے کہ غزہ پر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ اگر اسرائیل،غزہ میں اپنے فوجی بھیجتا ہے تو صورت حال پر قابو پانے اور تنازع نہ بڑھنے کی ضمانت کوئی بھی نہیں دے سکتا۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن خطے کی غیر مستحکم صورتحال کے پیشِ نظر بحران کو ٹالنے کے لیے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ہنگامی دورے کے بعد آج اسرائیل میں مذاکرات کرنے والے ہیں۔اسرائیل، حماس کے اِس حملے کا بدلہ لینے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ عرب لیگ اور افریقی یونین نے خبردار کیا ہے کہ غزہ پر حملہ ’نسل کشی‘ کا باعث بن سکتا ہے۔صورتحال کے پیشِ نظر اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ پورا خطہ تباہی کے دہانے پر ہے۔اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا کہ اسرائیل کو شمال میں جنگ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، ہم کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے۔امریکا نے اسرائیل کی واضح حمایت کا اعلان کیا ہے اور 2 طیارہ بردار بحری جہاز مشرقی بحیرہ روم میں بھیجا ہے۔
ایران کی جانب سے حماس کے حملے کی تعریف کرنے کے بعد وائٹ ہاؤس نے حملے میں ایران کے براہ راست ملوث ہونے کے خدشے کا اظہار کیا ہے، تاہم ایران کا اصرار ہے کہ وہ اس حملے میں ملوث نہیں تھا۔امریکا نے چین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے خطے میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔
گزشتہ روز چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ اسرائیل کا ردعمل اپنے دفاع کے دائرہ کار سے باہر ہو چکا ہے، وہ غزہ کے لوگوں کو اجتماعی سزا دینا بند کرے۔ہزاروں فوجیوں اور بھاری ہتھیاروں سے لیس اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ شمالی غزہ میں داخل ہونے کے لیے ’سیاسی اشارے‘ کا انتظار کر رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے شمال میں مقیم 21 لاکھ فلسطینیوں کو غزہ کے جنوب کی طرف جانے کے لیے کہا ہے لیکن خان یونس اور رفح سمیت غزہ کے جنوب میں اسرائیل کے فضائی حملے جاری ہیں۔
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں 47 خاندانوں کے لگ بھگ 500 افراد مارے جا چکے ہیں۔
اقوام متحدہ اور ریڈ کراس سمیت غیر ملکی حکومتوں اور امدادی ایجنسیوں نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کو انخلا کا حکم دینے پر بارہا تنقید کی ہے۔
فلسطینی پناہ گزینوں کی حمایت کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی نے گزشتہ روز کہا کہ تنازع کے پہلے ہفتے میں تقریباً 10 لاکھ فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں اور یہ تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔
فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کی انسانی ہمدردی کی معاون لین ہیسٹنگز نے اس بات کی مذمت کی کہ اسرائیل حماس کے حملے کے دوران اغوا کیے گئے سیکڑوں یرغمالیوں کی رہائی کے عوض غزہ میں انسانی امداد پہنچا رہا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں اصرار کیا کہ انسانی امداد کو ہرگز مشروط نہیں ہونا چاہیے، وہ حماس کو تباہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کی موجودہ حکمت عملی غزہ کو تباہ کر دے گی۔غزہ میں ہسپتال مرنے والوں اور زخمیوں سے بھرے ہوئے ہیں، حکام نے گزشتہ روز بتایا کہ تقریباً 9 ہزار 600 افراد زخمی ہوئے ہیں۔اسرائیلی وزیر توانائی اسرائیل کاٹز نے گزشتہ روز کہا کہ جنوبی غزہ کو پانی کی سپلائی دوبارہ بند کر دی گئی ہےبجلی کی بندش کے سبب سمندری پانی کو صاف کرنے والے پلانٹس، فوڈ ریفریجریشن اور ہسپتال کے انکیوبیٹرز خراب ہونے کا خطرہ ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹوائلٹ جانے، نہانے اور کپڑے دھونے جیسے روزمرہ کے کام کرنا بھی تقریباً ناممکن ہوچکا ہے۔
غزہ کے لوگ ہر طریقے سے پھنسے ہوئے ہیں، اسرائیل کے زیر کنٹرول کراسنگز بند ہیں اور مصر نے جنوب میں رفح بارڈر بھی بند کر دیا ہے۔
انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ غزہ میں امداد کی ترسیل کے لیے کراسنگ جلد کھول دی جائے گی، انہوں نے غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے خیال کو واضح طور پر مسترد کردیا۔







