زندگی ایک ناراض متن

ناول نگار: ڈاکٹر شاہدہ دلاور
تبصرہ: ثمینہ سید
عکس پبلی کیشنز

تجھ سے ناراض نہیں زندگی، حیران ہوں میں
تیرے معصوم سوالوں سے پریشان ہوں میں

زندگی ایک ایسا گورکھ دھندہ ہے کہ جسے سوچنے لگ جائیں یا اسے سمجھنے کی کوشش کرنے لگیں تو یہ بپھر کر ہمارے سامنے طغیانیاں بکھیر دیتی ہے اور کبھی کبھی تو سوچنے والے کو بہا کر ساتھ ہی لے جاتی ہے۔ اس کا نام پتا، حسب نسب مٹا دیتی ہے لیکن انسان بھی باز نہیں آتا، پھر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر” زندگی ایک ناراض متن ہے” کا فتویٰ ضرور دیتا ہے۔ زندگی اور فرد کی یہ کھینچا تانی ازل سے جاری ہے۔

’’زندگی ایک ناراض متن ” ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ کا ناول ہے۔ جو حال ہی میں عکس پبلی کیشنز سے شائع ہوکر دھوم مچا رہا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک زندگی کے ناراض متن کا ڈسا ہوا ہے۔ ایسے میں اگر یہ متن ایک ناول کی صورت ہمارے ہاتھ لگ جائے تو کون اس کی تہوں تک اترنا نہیں چاہے گا۔
ناول ایک طویل کہانی ہے۔ جس کے بارے میں شاہدہ دلاور ہی کی زبانی جانتے ہیں۔ لکھتی ہیں

’’میرے نزدیک ناول ایک طویل کہانی ہوتی ہے۔ یہ آدم سے لے کر اس دنیا کے آخری انسان پر بھی ختم ہو سکتی ہے اور صرف آدم پر یا اکیلے آخری انسان پر بھی مکمل ہوسکتی ہے۔‘‘

ناول کی کیسی منفرد تعریف کردی۔ یہ بہت ہی خوبصورت ناول ہے۔ سرورق بھی دلکش ہے۔ناول کا انداز شروع میں بیانیہ ہے اور ناصحانہ سا لگا۔۔ناول نگار کے انداز فکر کی جھلک بھی بار بار نظر آتی رہی۔ لیکن جیسے جیسے میں اس مرکزی کردار کے ساتھ ناول کی اتھاؤں کی طرف چلتی ہوں تو کیا دیکھتی ہوں۔ کہ ہر جملہ نثری نظم جیسی پکڑ اور جاذبیت کا حامل ہے۔ قدم قدم پر زندگی کے فلسفے نے آنکھیں نم کیں تو کبھی الجھی گرہیں ایک پل میں کھول دیں۔ پڑھتے پڑھتے مجھے اعتراف کرنا پڑا کہ نثر نگار اگر شاعر بھی ہے تو سونے پہ سہاگہ ہے۔سادا سی بات بھی الگ ڈھب سے تخلیق بنتی چلی جاتی ہے۔

ڈاکٹر شاہدہ دلاور سے میرا تعلق برسوں سے ہے۔ میں نے ہمیشہ انہیں ایک مہذب، محبت کرنے والا اور اپنے کام سے کام رکھنے والا انسان ہی پایا۔ میرے لکھنے پڑھنے اور کئی جہتوں میں کام کرنے کو وہ بہت سراہتی ہیں۔
ان کی شاعری بارہا ان کے ساتھ مشاعرے پڑھ کر سنی ۔ افسانے، نعت گوئی ، مضامین اور اب ناول ادب کے ساتھ ان کی لگن اور سنجیدگی کی دلیل ہے۔ پندرہ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ ایف سی جیسے باوقار تدریسی ادارے سے وابستہ ہیں۔

ناول کا انتساب اپنےوالد اور والدہ کے نام کرتی ہیں لکھتی ہیں کہ
” جن کے ہوتے ہوئے، ہوتے تھے زمانے اپنے”

یوں اس ناول “زندگی ایک ناراض متن” کا پْرحزن آغاز ہوتا ہے۔ ناول بیانیہ طرز کا ہے۔ ایک مرد بیان کررہا ہے جو زندگی کے تنگ و تاریک راستوں سے گزر رہا ہے، مجھے ایسا لگ رہا تھا اس کردار کے اتنے مسائل نہیں تھے جتنی گہری سوچ تھی۔ وہ بات کرتے کرتے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتا۔ اس کی یہ عادت بوجھل نہیں کرتی لطف دیتی ہے۔ زندگی کی نفسیاتی گرہیں کھولتی ہے۔
وہ کردار اور اس کا دوست سرور جاوید ایک ہی جگہ ملازمت کرتے ہیں یہ دونوں کلاس فیلوز بھی ہیں یوں اکثر ان کی باتوں میں بہت سے دوستوں اور اساتذہ کا ذکر بساط پھیلاتا جاتا ہے۔ زندگی نرم و گرم سے تلخیوں کی طرف محو سفر رہتی ہے۔ ان کی ایک کولیگ ” انعم ” ہے جسے یہ دونوں انو کہتے ہیں۔ بہت دیر تک یہ فیصلہ نہیں ہوپاتا کہ انو ان دونوں میں سے کسے پسند کرتی ہے۔ ان کے ساتھ ایسی ہی ایک الجھی محبت زمانہ ء طالب علمی میں بھی ہوچکی تھی۔ اس ناول میں دفاتر اور گھروں میں ہونے والی سازشیں ہیں، غیبتیں ہیں، اپنے ہی رشتے کیسے کیسے آپ کے مان بھرم پامال کرتے ہیں یہ رلا دینے والے مناظر ہیں۔ انو کے بہن اور بہنوئی روایتی کرداروں میں دوسروں کی زندگی مشکل بنانے کے فن میں ماہر ہیں۔ مذہبی افکار اور تعصبات ہیں۔انجام تک جاتے جاتےانو کی شادی سرور جاوید سے ہوتی ہے اور وہ ہندو ہے اپنے مذہب سے گہرے لگاؤ کے باعث وہ شادی کے بعد بھی ہندو ہی رہتی ہے۔

’’زندگی ایک ناراض متن ” بےشمار گہری اور پرتاثیر سطروں سے بھرا ہوا ہے جو شعر کے دو مصرعوں جتنی جامعیت رکھتی ہیں۔زندگی ڈگڈگی پر پیش بندر کا تماشا ہے۔ اس کی سنہری اور زندگی کرنے کے گر دیتی ہوئی یہ سطریں آپ بھی پڑھیے۔

“کچھ باتیں مجھے ان دیواروں سے کرتے ہوئے خوشی محسوس ہوتی ہے اور کئی مسائل زیر بحث لاتے ہوئے مجھے ان سے حجاب آتا ہے مجھے اس میں کئی طرح کے خدشات ہیں ایک تو دیواروں کی قوتِ سماعت بہت تیز ہوتی ہے اور دوسرا ان کی یادداشت بڑی گہری اپنی بنیادوں کی طرح مضبوط اور پختہ ہوتی ہے اپنے معبد میں ان کے ہاں ہر مکین کی سوانح معلق رہتی ہے۔ ”

’’میرا ایقان ہے کہ نظم زندگی میں سانس لیتی ہے۔۔۔زندگی میری نہیں اس پر میرا احسان بھی نہیں اور اختیار بھی نہیں مگر نظم میری ہوتی ہے اس پر میرا اختیار ہے اسی لیے اس پر محبوب کی طرح پیار آتا ہے نظم کو میں اپنے وجود میں محسوس کرتا ہوں لکھنے سے پہلے اور لکھنے کے بعد بھی۔‘‘

’’اس بوڑھی ہوتی ہوئی کائنات میں انسانی زندگی ایک روبوٹ ہے اس کے کئی مالکان ہوتے ہیں اس کا ایک بڑا مالک بھی ہے مگر اس کے نیچے بے شمار چھوٹے چھوٹے مالکان ہیں ان کی آگے بھی کم حیثیت کے مالکان ہیں سوائے بڑے مالک کے سب روبوٹ ہیں کوئی بڑے سائز کا مالک ہے اور کوئی چھوٹے سائز کا اب یہ گرہ کون کھولے کہ ان چھوٹے چھوٹے مالکان کو کیوں مقرر کر رکھا ہے جبکہ مذاہب کا نظام تو کہتا ہے کہ خالق اور مخلوق کے فاصلے نہیں ہوتے۔‘‘
’’پھر ایسا کیوں ہے کہ جیسے میں کچھ منڈیر پر رکھ کر بھول گیا ہوں۔۔۔۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ منڈیر پر رکھی ہوئی شے کو تو نگلنے کے لیے ہوا ہی کافی ہوتی ہے۔ اس بات کا کوئی بھروسا نہیں ہوتا کہ کون اٹھا لے جائے۔‘‘

’’ایک سانس میں مجھے کئی موتیں مرنا ہوتی ہیں۔۔۔۔ مرنے کے لیے کوئی ایک جگہ نہیں، میں تو مانگنے والے کے خالی رہ جانے والے ہاتھ میں، زیادتی کا شکار عورت کے جسم سے برآمد ہونے والی نقاہتی کراہ میں،کچی چھت کے ملٹی بیرک گن کے شکار ہر کمزور پر حملے میں، بالوں میں چاندی لیے بیٹھی لڑکیوں میں، امیرزادوں کے گھروں میں کام کرتی کھردری ہتھیلی میں اور جیون سے بھری آنکھوں پر موت کے ہلے میں مرتا ہوں۔‘‘

“واہمہ جب یقین میں بدلتا ہے تو ایسی جگہوں کا سفر بھی راس آتا ہے جہاں وہ شخص ہوتا ہی نہیں”

” ایک رنگ میں بعض اوقات کئی رنگ ٹھہر جاتے ہیں یا نہیں بھی ٹھہرتے تو بھی ٹھہرے ہی لگتے ہیں۔ ”

” وہ تو ہمیشہ مجھے نظر آتی ہے۔۔۔۔ ایسا ہونا نہیں چاہیے۔۔۔۔۔ جتنا بندہ دیکھے اسے اتنا ہی دکھائی دینا چاہیے ”

’’کیا لمحہ زندگی ہے؟ ۔۔۔۔ اگر زندگی ہے تو اس لمحے کی موجودگی یا عدم موجودگی ہونے نہ ہونے کے فلسفے کو نروان عطا کرتی ہے۔‘‘

” محبت ایک عجیب ترازو ہے جس کے ایک پلڑے میں محبوب ہوتا ہے تو دوسرے میں زمانے بھر کی تہمتیں۔ ”

شاعری کی کتاب اگر اعلیٰ اشعار پر مبنی ہوتو انتخاب کرنا کارِدشوار بن جاتا ہے۔ لیکن نثر میں ایسی مشکل کا درپیش آنا۔۔۔۔۔ یقیناً نثر کے اعلیٰ ترین ہونے کا ثبوت ہے۔ ناول کی شائستہ زبان اور جزئیات نگاری متاثر کن ہے۔ میں ایسے کامیاب ناول پر ڈاکٹر شاہدہ دلاور کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ میں تادیر اس کے سحر میں رہوں گی۔ ڈھیروں نیک خواہشات، دعائیں

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں