گل سیمیا(شعری مجموعہ)
شاعر: غلام حسین ساجد
تبصرہ: ثمینہ سید
انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی ادب کی تشکیل ودیعت کردی گئی تھی۔ پھر عطا کے لیے چنیدہ لوگوں پر نظر کرم ہوئی۔ باشعور اور تہذیب یافتہ انسان جو دراصل معاشرتی حیوان ہی ہے۔ دوسروں کے ساتھ مل کر ہی زندگی گزار سکتا ہے اکیلا کچھ بھی نہیں ہے۔ اور جب دوسرے ارد گرد ہیں تو واسطے، تعلقات، رشتے، توقعات، وابستگی، محبت اور نفرت جیسے جذبات کی ترسیل بھی لازم ٹھہری۔ جذبات کی اسی ترسیل کو الفاظ دینا، بات کہنے کا سلیقہ ہونا ہی ادب ہے۔ تخلیقی وفور اور بات کہہ دینے کے سلیقے سے بھرے ہوئے ایک شاعر کی کتاب ” گل سیمیا” مجھے موصول ہوئی۔ تو جیسے تپتی دھوپ میں خوشبودار سی ہوا کا ایک جھونکا میرے شعور کو چھو کر گزرا۔ میں کئی سالوں سے حلقہء احباب میں ہر طرح کے لوگوں اور لہجوں کو سن رہی ہوں، دیکھ بھی رہی ہوں۔ پہلا تاثر تو شخصیت کا ہی ہوتا ہے۔ بہت سے لوگوں میں دھیمی سی مسکراہٹ اور وہ بھی شفاف اور بےریا مسکراہٹ چہرے پر سجائے غلام حسین ساجد کسی کو چھوٹا، معمولی، نیا، اناڑی اور نقلی کہتے کبھی بھی نظر نہیں آئیں گے۔
حالانکہ بڑے گْنی آدمی ہیں۔ علم و ہنر، فہم و فراست سے لبا لب لیکن غرور و تکبر سے کوسوں دور ہیں۔
” گل سیمیا” ان کا ساتواں شعری مجموعہ ہے۔ یہاں تک آتے آتے تو شاعر کی گردن میں اچھا خاصا’ سریا ‘آ جاتا ہے۔ لیکن جناب ویسے ہی ہیں “نیند میں چلتےہوئے”‘روداد” کہتے ہوئے۔ جہان فانی کی” حقیقت” سے گزرتے” باغ و راغ ” کے ہمراہ کلیات تک مرتب کر چکے ہیں۔ تنقید پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور مضامین کی کتب بھی شائع ہو چکی ہیں۔ لیکن مزاج ویسا ہی سبک اور خوش آثار۔۔ شاید یہی وجہ ہے کہ گل سیمیا کے رنگ اور خوشبو آج بھی ان کے تروتازہ ذہن و دل کو طراوت بخشتے ہیں۔ عجز ایسا کہ کہتے ہیں۔
وہ اگر اذنِ ہم نوائی نہ دے
اپنی آواز بھی سنائی نہ دے
غزل کے باب میں کامل نہیں ہوا ہوں ابھی
سو اس کے سامنے عرضِ ہنر نہیں کرتا
یہی انکساری ثمر آوری اور خوش نامی کا سبب بنتی ہے۔ وہ ایسے بنتے نہیں ہیں بلکہ ایسے ہی ہیں۔ انہیں شاید شہرت کے لیے ” کیفیت” بنائے پھرنا آتا ہی نہیں ہے۔ اسی لیے نام ونسب اور شہرت ان کے ہمرکاب خود ہی ہو چلی ہے۔
ان کی شاعری متنوع موضوعات کی حامل ہے۔ تخیل خوب ہموار ہے۔ کلام پڑھتے ہوئے کہیں بھی تکرارِ خیال یا قافیہ نبھانے کی کوشش نظر نہیں آتی۔ اکثر غزلیں دس سے زائد اشعار پر مبنی ہیں۔ استعارے اور علامتیں غلام حسین ساجد صاحب کے کلام کو حسن دیتے ہیں۔ وہ تہذیب کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن ان کے لہجے میں ان کے داخلی مزاج کی تابانی اور حس جمالیات ہنوز ہے۔ استاد رہے، کلام میں بھی استادانہ اسلوب صاف نظر آتا ہے لیکن سپاٹ نہیں ہوتا۔ تاثر کی چاشنی نے جابجا رنگ بکھیرے ہوئے ہیں۔ شاعری کی اسی ثروت مندی نے ان کے چہرے پہ اطمینان کو ثبت کردیا ہے۔
ان کے ہم عصر جناب حسین مجروح فرماتے ہیں۔
“گل سیمیا” اس حیرتی کا تازہ مشک دان ہے، جس کی البیلی مہک میں روایت، تازہ روی اور مشاقی یوں گھل مل گئی ہیں کہ ایک کو دوسری سے جدا کرکے دیکھنا ممکن ہی نہیں۔ بس ایک بے مہار خوشبو ہے جسے محسوس کیا جا سکتا ہے، جس کے ساتھ تادیر رہا جا سکتا ہے۔ “1
حسین مجروح صاحب کی نظم و نثر کی سحر طرازی کمال ہے۔ اور دوست کے بارے میں اس رائے نے واقعی ماحول کو تادیر معطر رکھنا ہے۔
کچھ اشعار دیکھئے اور خوشبو کے حصار میں رہیے۔ آئینہ، چراغ اور طیور اشعار میں مسلسل تازگی بھرتے دکھائی دیتے ہیں۔
لہو میں تیرتا رہتا ہے اک چراغ، مگر
بِنائے قریہء دل پراثر نہیں کرتا
اگر کسی کے اجالے پہ حرف آتا ہے
تو اس گلی سے مناسب ہے اجتناب مرا
سنبھالوں گا کسی کا عکس اپنی پتلیوں میں
پلٹ آؤں گا جب تک بے نشاں آئینہ ہوگا
روبرو رکھ دیا آئینہ کسی گل رخ کے
کام اس ڈھنگ سے آخر ہوا آسان مرا
اک دائرے میں گھومتی رہتی ہے کائنات
کچھ نھی نہیں یہاں ارے غافل رکا ہوا
میں شام اوڑھے ہوئے پھر رہا تھا گلیوں میں
قریب ہی کسی رنگ دگر میں وہ بھی تھا
کسی درخت کی روئیدگی بڑھانے کو
زمیں پہ کھینچ کے لاتا ہوں آسماں سے دھوپ
خزاں نے روند دیا نقش پا سمجھ کے مجھے
وگرنہ کرنے ہی والا تھا میں بہار ایجاد
زباں بدلنے سے معانی نہیں بدل جاتے
نقیب ہوتی ہے اک پیڑ کی ذرا سی شاخ
کیسے کیسے تیور، منطق اور معانی کا جہان غلام حسین ساجد کے اشعار میں پنہاں ہے۔ کتاب قاری کو سحر زدہ کرکے تادیر معطر رکھتی ہے۔
باندھے ہوئے ہیں ہاتھ میرے اک گلاب نے
یوں تو مجھے بھی تیروکماں پر ہے اختیار
پہلا شعر زمیں پر لکھا، پہلا خط آئینے پر
یعنی مجھ کو خوش آتے ہیں پھول فقط آئینے پر
آج وہ اپنی کایا اپنے عکس پر رکھ کر بھول گیا
اک بربط آئینے میں ہے، اک بربط آئینے پر
اسے یقین دلاؤں تو کس بھروسے پر
مجھے خبر ہے کہ ہوں میں بھی کس قدر محفوظ
زباں پر کھنکھناتی ہیں کبھی لفظوں کی پازیبیں
سمٹ کر بیٹھ جاتا ہے کبھی زور بیاں در دل
اپنی تہذیب کے پابند رہا کرتے ہیں
اور ہوتے ہیں انہیں سارے سلاسل معلوم
شاید پسند آتی نہیں روشنی انہیں
جلتے ہیں جب چراغ تو گاتے نہیں طیور
المیے بھی اس قدر سہولت سے شاعری کے دامن میں سموتے ہیں کہ آنکھ بھیگتی ہے دل اداس اور ملول ضرور ہوتا ہے لیکن بیزاری کا شائبہ تک نہیں ابھرتا۔ میرے لیے اشعار منتخب کرتے چلے جانے سے ہاتھ روکنا مشکل ہورہا ہے۔ لیکن بات کو سمیٹنے کے لیے ایک عارضی تعطل بھی ضروری ہے۔ تو دو اشعار مزید
لطف آنے لگا عداوت میں
ہو مرے دشمنوں کی عمر دراز
اک عکسِ دل پذیر نے خود میری خاک پر
لکھا ہے مرے نام سے اجلا رپورتاژ
ایسے ایسے مشکل الفاظ کو اس نرم روی سے شعر کے قالب میں ڈھالنا ہنر کاری سے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ یہ میرے عہد کے نایاب لوگ ہیں جنہیں پڑھنا اور ان کے بارے میں کچھ لکھنے کی جراءت کرنا گویا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ لیکن ہم آموزش اور ادب کے قرینے تک اسی روشن راستے سے رسائی پا سکتے ہیں۔
کچھ اور وجہ ہے ساجد عطائے خلعت کی
یہی نہیں کہ میں اپنے غلام پر خوش ہوں
وہ عطا کرنے والا خوش ہے تو نواز رہا ہے۔ اردو زبان و ادب کو ایسے لہجے اور شاعری کی یہی پختہ کاری ایک مضبوط اور قابل قدر زبان بنانے میں معاون ہے۔
صحت و سلامتی کی دعائیں اور ایسی دیدہ زیب کتاب بھیجنے کے لیے ممنون ہوں۔
حوالہ۔ حسین مجروح:گل سیمیا، پبلی کیشنز رنگ ادب لاہور






