کتاب: شاید نہیں
افسانہ نگار: رفیع حیدر انجم(بھارت)
تعارفی مضمون:ثمینہ سید
خود کلامی کہانی سنا رہی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاٸنات کا وجود میں آنا اور اس کے اندر فنا کا راز رکھ کر زندگی کو تجسس میں رکھنا کہانی ہے۔کب کیا ہوگا ,کی سوچ کہانیوں کو جنم دیتی ہے ، تحیر اور وسعت سے ہمرکاب کرتی ہے۔اپنے اطراف سے ایسی ہی ڈھیروں المیہ ، طربیہ اور تجسس سے معمور کہانیاں ہم کہانی کار اپنے مزاج کے سانچوں میں ڈھالتے ہیں۔دو چار کہانیاں مصنف کا اسلوب بتا دیتی ہیں۔ کہانی کار بیانیہ انداز اپناتا ہے لیکن کچھ کہانی کار کہانی کرداروں کے حوالے کرکے خود پیچھے رہتے ہیں جبکہ کچھ افسانہ نگاروں کے ہاں مکالمہ چلتا رہتا ہے۔کہانی میں مصنف خود کلامی کے ذریعے معاشرے میں جابجا بکھری کہانیاں رقم کرتا رہتا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے وہ قاری کے ساتھ ساتھ حقائق لے کرچل رہا ہے۔اپنی آنکھوں سے قاری کو کاٸنات کے کریہہ مناظر دکھا رہا ہے۔ایسا ہی تخلیق کار ہے رفیع حیدر انجم۔رفیع حیدر انجم کا تعلق بھارت سے ہے. ان کی کتاب ”شاید نہیں“ جس میں چھبیس افسانے اور پانچ افسانچے شامل ہیں. اس دیدہ زیب کتاب کی اشاعت ”فکشن گیلری“ پبلی کیشنز نے لاہور سے کی ہے۔سچ کہتے ہیں عشق اور ادب کی حد ہوتی ہے نہ سرحد۔
الفاظ ایک احساس تخلیق کرتے ہیں اور احساس کی روانی کو قید نہیں کیا جاسکتا البتہ قلم بند ضرور کیا جاسکتا ہے. اسے کہانیاں ،افسانے اور شاعری کے قالبوں میں ضرور ڈھالا جا سکتا ہے۔پھر یہ خوشبو نگر نگر دھنک رنگ کرتی پھرتی ہے۔
لکھنے والا دنیا کو جس تحیر سے دیکھتا ہے وہی حیرت کہانی کو جادوٸی موڑ اور دلکش پیراٸے عطا کرتی ہے۔
ہمارے نہایت محترم اور معروف نقاد جناب جمیل احمد عدیل ” شاید نہیں“ کے بارے میں لکھتے ہیں
’’شاید نہیں“ سے موسوم اس مجموعے میں عمومی روایت کے مطابق بھلے ہی ٹائٹل اسٹوری بھی موجود ہے لیکن اس مرکزی سرنامے کو اپنی تمام کہانیوں کا ترجمان بنانا اس لیے بھایا کہ مصنف نےاس, مقبول تیقن ،سے عمداً فاصلہ اختیار کیا ہے جس نے سوچ سمجھ کر واحد تعبیر کی حکمرانی کے لیے سدا راہ ہموار کی۔ ظاہر ہے جنہیں زعم خوب راس آیا ہو، وہ بھلا ادعا ایسے” اعلا جوہر“ سےکب دستبردار ہونے پر آمادہ ہوتے ہیں۔یوں ذہن اسی طرح بنا دیے گٸے ہیں،جسے اپنے کہے پر کامل ایقان حاصل نہیں،جس کے وجود کا پیمانہ خود اعتمادی کی مے سے چھلک نہیں رہا;اسے کوئی بھی تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوگا جی ایسا ہی ہے مگر کیا اس طرف پر مرکوز ہونے کی احتیاج نہ تھی کہ واحد متکلم کے بِس کا تریاق بھی واحد متکلم ہونا ایسا بھید تو نہیں!اس عملی کلیے کے تحت شد و مد کے ساتھ پیش ہونے والا ہر بیانیہ اسی شد و مد کے ساتھ استرداد کا شکار ہوا۔یوں ذہنی جارحیتوں کے باعث سماج علمی اناؤں سے نک و نک بھر گیا سو سچی بات ہے” شاید نہیں“ کی نرم دستک نے اس تخلیقیت کا خاموشی سے اثبات کرا لیا ہے جسے اس نے کسی نہ کسی سطح پر لادریت سے وصول کیا ہوگا۔
’’شاید نہیں“یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کے افسانے خود کلامی ہیں. مصنف جیسے خود سے مکالمہ کر رہا ہو.اکثر کہانیاں ایسی ہیں جن میں وہ خود نظر آتا ہے اور وہ اپنی نجی زندگی کے بارے میں گفتگو کرتا ہے۔بیوی سے مخاطب بھی ہوتا ہے اور اس کے نرم لطیف پہلو میں چھپنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔کیونکہ مصنف مسلسل الجھن کا شکار ہے۔اسے معاشرے کے گرگٹ کی طرح بدلتے رنگ اور رویے ششدر رکھتے ہیں۔ لکھتا ہے
صبح انکھ کھلی تو سب سے پہلے میری نظر قد ادم ائینے پر پڑی .اپنا سراپہ دیکھ کرایک لمحے کے لیے مجھے اپنی پریشان خیالی پر سخت شرمندگی ہوئ .کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ خواہ مخواہ ہی میں رات بھر شکوک و شبہات کی تیرگی میں ہاتھ پاؤں مارتا رہا۔میرے چہرے پر تمانیت کی پرچھائیاں ابھر آئیں۔
میں محسوس کرتا ہوں کہ اس اپاہج ادمی میں غیر معمولی دلچسپی پر بس کے مسافر مجھے حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔کچھ لوگوں کے چہروں پر ناخوشگواری کی لکیریں بھی واضح ہونے لگی ہیں۔اچانک میں خود کو خوفناک درندوں کے درمیان گھرا ہوا محسوس کرتا ہوں۔شاید لوگ مجھے اٹھا کر اس کھڑکی سے باہرسڑک پر پھینک دینے کا ارادہ کر رہے ہیں ۔“
ہمیشہ دائروں میں رہنا اچھا نہیں لگتا بلکہ میں تو دائروں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا چاہتا ہوں ۔لیکن۔۔۔۔۔۔وہ خاموش ہو جاتا ہے کہ اس لیکن کے بعد خاموشی ہی دور تک ساتھ دے سکتی ہے۔پھر وہ مسکرانے لگتا ہے ۔اس کی مسکراہٹ میں اپنائیت کا گہرا رنگ جھلکنے لگا ہے۔
اور پھر اس کی ماں کی کہانیوں کی روکھی سوکھی روٹیاں اس کے کمرے کے کونوں کھدروں سے نکل نکل کر اسے آ دبوچتی ہیں۔
’’ادھورا آدمی “افسانے میں لکھتے ہیں:
اس کی سیاہ آنکھوں میں مقناطیسی کشش ہے.میں نہیں جانتا یہ کس مذہب اور عقیدے سے تعلق رکھتا ہے مگر اس کے لمبے لمبے کانوں اور ستواں ناک کی سانولی رنگت دیوتاؤں کے سے تقدس کی مظہر ہے۔ تو کیا اس اپاہج آدمی کو احساس ہے کہ اس کی شخصیت میں کوٸی خاص بات ہے۔
شاید۔۔۔۔ شا۔۔۔۔۔۔تمہارا جسم بھی ایک فریب رنگ ، شاید ، ہے. سرنگ جیسی تنگ و تاریک اور شہر کی طرح ’’کرفیو زدہ‘‘۔
مذہبی دنگے فساد اور عام زندگی کی مشکلات بھی ان افسانوں میں نوحہ کناں ہیں لیکن علامت کے مہین پردوں میں لپٹی ہوٸی ہیں یہی ان افسانوں کا حسن ہے۔
’’ہیرامن کی چوتھی قسم“ میں ہیرامن اور لال موہر مرکزی کردار ہیں ۔یہ ایک طویل لیکن دلچسپ موڑ لیتی کہانی ہے جو قدم قدم پر حیران کرتی ہے۔اس کے باوجود مبالغہ یا غیر فطری ماحول کہیں نہیں ہے۔
’’کھنڈروں میں بسے ہوٸے لوگ “روایتوں اور جدتوں کے تال میل کی کہانی ہے جو اب خوف کی لہر بن کر ریڑھ کی ہڈی تک سرایت کر جاتے ہیں جس جدیدیت کو روایت زدہ لوگ ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں۔
’’آوازیں،لفٹ کا تبادلہ ، بھوک کی رفتار،کاش ،گے“ بہترین افسانچے ہیں اور آخر میں عالمی شہرت کے حامل افسانہ پیج ”عالمی افسانہ میلہ“ کے دوستوں کی آراء ایک نٸی اور خوب صورت روایت کا آغاز ہے۔یہ کتاب میں پنجاب یونیورسٹی کے کتاب میلہ سے خرید کر لاٸی تھی کیونکہ میں نے بھی عالمی افسانہ میلہ پر رفیع صاحب کے افسانے پڑھ رکھے تھے۔میں اب پوری طرح لطف اندوز ہونا چاہتی تھی۔
مجموعی طور پر اس کتاب ”شاید نہیں“ کے افسانے مختلف رنگوں اور ذاٸقوں کے افسانے ہیں جو روزمرہ زندگی کے گلی کوچوں میں جابجا بکھرے پڑے ہیں۔جناب رفیع حیدر انجم نے ان افسانوں کو محبت سے اپنے ہاتھوں کی اوک بنا کر دامن میں بھر لیا ہے یہ یوں چمک اٹھے ہیں جیسے ستارے افق کو جگمگ کردیتے ہیں۔دعا ہے کہ رفیع حیدر انجم کی یہ کتاب ان کے ادبی افق پر روشن ستارا بنی چمکتی رہے اور مزید تخلیقات کے لیے سنگ میل ثابت ہو۔آمین






