چین سے چین تک(کتاب)
سفرنامہ نگار: محمد کریم احمد۔پروڈیوسر: ریڈیو پاکستان لاہور
تبصرہ:ثمینہ سید
دل زندہ و بیدار اگر ہو تو بتدریج
بندے کو عطا کرتے ہیں چشم نگراں اور
احوال و مقامات پہ موقوف ہے سب کچھ
ہر لحظہ ہے سالک کا زماں اور مکاں اور
(بال جبریل)
اقبال کے شاہین دیدہ ء بینا رکھتے ہیں۔ جہانوں کے اندر نئے جہانوں کی کھوج لگانے اور ایک خاص نقطہ نظر سے موتی چننے کے بعد انہی لڑی میں پرو کر سفرنامہ بنا دینے کے ہنر سے شناسا بھی ہو گئے ہیں۔ تو افسانوی رنگ میں مناظر کی ترتیب سے سفرنامہ وجود پذیر ہوا۔
آج ہم ایک سفر نامہ ” چین سے چین تک ” کا تعارف کرواتے ہیں۔یہ کتاب فکشن ہاؤس نے شائع کی ہے۔ سفر نامہ کی روایت اور تاریخ سفر سے جڑی ہوئی ہے اور تحریر لکھنے والے کے اسلوب سے۔ ہم وہی دیکھ سکتے ہیں جو سفرنامہ نگار ہمیں دکھائے گا۔ وہ جتنی سادہ بیانی اور روانی سے کام لے گا اسی قدر ہم سفر کی لطافتوں سے محظوظ ہونگے۔
محمد کریم احمد ریڈیو پاکستان لاہور سے منسلک ہیں اپنے چین جانے کے اور اس سفر نامہ کے بارے میں لکھتے ہیں۔ کہ ’’راقم الحروف تین سال تک بطور فارن ایکسپرٹ چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کی اردو سروس سے وابستہ رہا۔ یہ اردو سروس گزشتہ پچاس برس سے زائد عرصے سے اپنی نشریات پیش کررہی ہے۔ یوں سفارتی دوستی کے ساتھ ساتھ نشریاتی دوستی کا سفر بھی جاری و ساری ہے۔‘‘
چین نے اپنی بدحالی کو محنت کی عظمت سے خوشحالی میں بدل ڈالا ہے، آج وہ ہر طرح سے ترقی یافتہ ملک بن چکا ہے تو آج ہم ترقی کے کچھ رازوں سے تو آگاہی حاصل کرتے ہیں۔ چائنہ ریڈیو کے متعلق محمد کریم لکھتے ہیں کہ ’’چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل حقیقی معنوں میں ایک عالمی نشریاتی ادارہ ہے جہاں اردو سمیت دنیا بھر کی کم وبیش چھیاسٹھ زبانوں میں نشریات پیش کی جاتی ہیں۔‘‘
محمد کریم ہمیں بتاتے ہیں چین کے اس ادارے میں داخل ہوتے ہی انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ دفاتر سادہ اور کم خرچ طرز پر بنے ہوئے ہمارے کمرشل بینکوں کی طرح چھوٹے چھوٹے کیبن، ایک جدید فولڈنگ کرسی اور کمپیوٹر ہر ملازم کا کل دفتری اثاثہ ہے۔ وہ جس ملک سے گئے تھے وہاں تو سارا زور اور پیسہ پروٹوکول اور نمائش پر ہی خرچ ہوجاتا ہے اس لیے حیرت یقینی تھی۔ پھر اس تحیر نے محمد کریم کا ہاتھ تھامے رکھا اور وہ خوبصورت منظرکشی کے ساتھ ساتھ ہمیں چین گھماتے رہے۔ ہر جگہ داخلی دروازے سے شناخت کا عمل جدید آلات سے کیا جاتا ہے۔ مختلف ملکوں سے لوگ وہاں کام کے لیے جاتے ہیں اس لیے انتظامی معاملات کو بہتر پیمانے پر برتا جاتا ہے۔ لکھتے ہیں کہ وہاں چینی لوگوں نے اپنے پاکستانی نام رکھے ہوئے تھے جیسے ان کی کو لیگ ای فنگ جس کا پاکستانی نام’ طاہرہ’ تھا۔ وہ اس کتاب کے دیباچہ میں یوں رقم طراز ہیں۔’’چین نے اپنی سماجی ضرورتوں اور تقاضوں کے مطابق ترقی کا جو پائیدار نظام بنایا ہے، اس کی مثال دنیا میں کہیں اور ناپید ہے۔ پرامن طریقے سے جدیدیت کے راستے پر گامزن چین دنیا پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔‘‘صفحہ 13
یہ کتاب پاکستانی عوام اور دنیا بھر میں اردو سمجھنے والوں کے لیے چین کو جاننے کے حوالے سے ایک گراں قدر کوشش ہے”صفحہ14
ڈاکٹر حسن عسکری پروفیسر پنجاب یونیورسٹی لاہور لکھتے ہیں۔ صفحہ 15
’’جب چین کی نئی نسل نے مغربی زبانوں خصوصاً انگریزی کو سیکھنا شروع کیا۔ چین نے اپنی سفارتی اور ثقافتی کوششوں سے اپنے تعلقات کو عالمی سطح پر پھیلانا شروع کیا اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کا چین اپنے ثقافتی ورثے سے رشتہ توڑے بغیر ایک جدید صنعتی اور فوجی قوت بن گیا ہے جو کہ عالمی کردار ادا کررہا ہے۔”صفحہ33
یہ کتاب ” چین سے چین تک ” چند اعلیٰ شخصیات کے مضامین کے بعد انتہائی روشن اور سرسبز چین میں محمد کریم کی مختلف جگہوں پر بنائی گئی تصاویر سے سجی ہوئی ہے۔ جیسے وہ چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل بیجنگ کی مرکزی عمارت کے سامنے ہیں، پھر اس کے منی میوزم میں، مختلف شاہراہوں پر، دیوار چین کی سیر کرتے ہوئے، بیجنگ کے شہر ممنوعہ میں، بیجنگ کی مرکزی مسجد میں عید کی نماز پڑھتے ہوئے، ٹیلی سکوپ فاسٹ کے سامنے ،نیو جئے مسجد کے احاطے میں عرب مسلمانوں کی قدیم قبروں کے پاس، سی آر آئی کے کرکٹ گراؤنڈ میں، چین کے شہر شنینانگ میں، زن ای شہر کی تاریخی عمارات، گابا گاؤں کے مناظر، مختلف کانفرنسوں، رسہ کشی اور ثقافتی دوستانہ مقابلہ جات میں، ہوٹلز اور سائیکل کے عام استعمال دکھاتے ہیں، پاکستان ایمبیسی کالج میں آزادی کی تقریب کے دوران، بیجنگ کے سمر پیلس اور جھیل کی شفافیت میں۔ ہر جگہ محمد کریم نے خوبصورت تعارف ، مختصر تبصرے، اور تفصیلات دی ہیں۔
” بائسیکل اورروایتی لباس سے لے کر جدیدٹرانسپورٹ،ہائی سپیڈ ریلوے ٹرین، جدید کمیونیکیشن نظام،بلند وبالا عمارات اور ٹریفک سے بھری سڑکوں میں نظم و ضبط قدیم اور جدید کا امتزاج نطر اتا ہے۔ یہ وہ معاملات ہیں ج۔ سے ہم پاکستانیوں کو دیکھنا چاہیے۔ “ص 43
غلام محی الدین ایڈیٹر سنڈے میگزین روزنامہ ایکسپریس اس کتاب سے امید کرتے ہیں۔
“وسعت نظر کو نئی رفعتوں سے آشنا کرنے علم و حکمت کے ان سوتوں سے ہٹ کر علم و حکمت کا ایک عظیم سوتا رب کی زمین میں سیاحت سے پھوٹتا ہے۔ جو اپنے تنوع، گہرائی اور ہمہ گیریت کے اعتبار سے بےمثل ہوتا ہے۔ مولانا روم کا کہنا ہے کہ سیاحت آپ کی زندگی کو قوت اور محبت سے سرشار کردیتی ہے۔ سیاحتی تجربے کا حال پڑھنے اور سننے والوں کو بھی نئے ذائقوں سے آشنا کرتا ہے۔ “ص44
یہ سچ ہے کہ سیاحت انسانی ذہن کو تروتازہ کرتی ہے اس پر نئی دنیا منکشف کرتی ہے۔
محمد کریم کے اس کتاب سے کچھ اقتباسات رقم کرتی ہوں جو ہمیں چین سے ملوائیں گے۔
دفاتر کی کینٹینز ہماری روایتی کینٹینز جیسی نہیں تھیں بلکہ اس کا تینوں وقت کا مینیو پنج ستارہ ہوٹلوں کی طرح بوفے کی مانند تھا۔
بِگ ڈیٹا کے بارے میں آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا رجحان ہے۔ اس کی تعریف تو کافی تکنیکی ہے مگر عام فہم اور سادہ الفاظ میں یہ کہ اس میں کثیر مقدار میں موجود ڈیٹا اور اعدادوشمار کا کمپیوٹر کی مدد سے تجزیہ کیا جاتا ہے۔ تاکہ انسانی رویوں کے مختلف رجحانات، طریقہ کار اور وابستگی کا جائزہ لیا جا سکے۔
گوئچو کے علاقے میں اس ٹیکنالوجی کو شہریوں کے تحفظ، غربت کے خاتمے، موسم کے متعلق پیشگوئی اور دیگر شعبوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ص 45
یہ ہی ترقی کے وہ راز ہیں جو اس سفرنامہ کے زریعے ہم پر کھلیں گے۔ جس ملک کی انتظامیہ اپنی افرادی قوت کے رویوں اور رجحانات تک کی ذمہ داری لے لیتی ہے اس کے ہر فرد کو ملت کے مقدر کا ستارہ بننا ہی پڑتا ہے۔ ہمارے بڑوں کے بنائے ہوئے قائدے قانون ان دوسری قوموں نے کیسے چرا لیے سمجھ سے باہر ہے۔ ہم کیوں بےبہرہ رہے۔ ٹیلی سکوپ والے علاقے کی سیر اور تعارف دلچسپ لگا۔ یہ دور بلند وبالا پہاڑوں میں نصب کی گئی ہیں۔ یہ چار ہزار چار سو پچاس تکونی پینلز پر مشتمل ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی ریڈیو ٹیلی سکوپ ہے۔ کہتے ہیں
” فاسٹ کا تصور اور اس کی سائٹ کو دیکھنا کسی خواب سے کم نہیں۔ ” ص 51
اچھوتے عنوانات کے ساتھ سفرنامہ آگے بڑھتا جاتا ہے۔۔ ‘مرزا کی بائسیکل سے چین میں سائکل سواری تک’
اس مضمون میں سائکلنگ کی تاریخ، فوائد اور مجتلف ادوار میں اس جنون کے بارے میں دلچسپ حقائق ہیں۔ چین کو کنگڈم آف بائسیکل بھی کہا گیا۔ امریکہ کے صدر بش جب بیجنگ میں بطور امریکی سفیر موجود تھے تو انہیں بھی دو سائیکلز تحفے میں دی گئیں۔ اس دور میں تین یا چار کار لینز جتنی چوڑی سائیکل لینز ہوا کرتی تھی۔ بتاتے ہیں کہ اسی کی دہائی میں چین کا ترقی کا نیا دور شروع ہوااور نوے کی دہائی میں کاروں کا کلچر آغاز ہوا۔
سینما گھروں اور فلم کلچر کے بارے میں بتاتے ہیں کہ فلم شروع ہونے سے پہلے گلاسز فراہم کی جاتی ہیں انہیں پہننے کے فوائد بتائے جاتے ہیں۔ پھر اس مضمون میں فلم دیکھنے کا حال بہت پرلطف طریقے سے بتایا۔ سینما ہالز کی سادگی اور قوانین کی پابندی، فلم ختم کر کے ہی نکلنے کے بارے میں جاننا اچھا لگا۔ لکھتے ہیں سینما ہالز کے ساتھ فلم کی تعلیم اور ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے سامان بھی دکانوں اور نمائشوں کی صورت ہیں۔ لکھتے ہیں کہ
“اگر دیوار چین چین سے باہر چین کی شناخت ہے تو پیکنگ اوپرا چین کی ثقافتی شناخت ہے۔ ”
چین کے رہنے والے اپنی ثقافت، سائنس کی ترقی اور زمانہ سازی کے باوجود اپنی زبان کی محبت میں گرفتار ہیں۔
” فنون لطیفہ کی تمام تر سرگرمیوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے چینی زبان میں مہارت ایک لازمی امر ہے۔ کیونکہ زیادہ تر ثقافتی تقاریب کے حوالے سے معلومات اور لٹریچر چینی زبان میں ہی دستیاب ہوتا ہے۔ ”
“بیجنگ میں واقع ایشیا کی سب سے بڑی لائبریری”ص 105
اس سرخی نے میری آنکھوں پر ایک نیا جہان منکشف کیا۔ کیونکہ ہم سنتے اور سمجھتے ہیں کہ چین کے لوگوں نے محنت، مشقت والے کاموں سے ترقی کی ہے۔ لیکن کتاب سے اس قدر محبت کہ کیفے ٹیریاز کے ساتھ لائبریریاں بنی ہونا حیران کن ہے۔ محمد کریم ہمیں بتاتے ہیں کہ چین میں موبائل لائبریری کا رواج عام ہے، قدیم عمارات کے ایک کونے میں لائبریری لازمی موجود ہے۔ سفرنامہ نگار کا شعوری طور پر ہوشیار اور دیدہ ء بینا ہونا بہت ضروری امر ہے تبھی وہ ہر چیز میں کچھ خاص دیکھ پاتا ہے۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے مجھے بہت طمانیت ہوئی کہ محمد کریم صاحب صرف نوکری کرنے نہیں گئے تھے بلکہ انہوں نے رب کائنات کی رنگ برنگی کائنات کو باشعور ذہن و دل کے ساتھ خوب پرکھا اور یہ رنگ اپنی ذات میں ترتیب و تذئین کے لیے بھر لیے۔انہیں چین کے گلیاں محلے اپنے اندرون لاہور جیسے بھی لگے۔ یہ مصنف کا فطری وصف ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں کہیں بھی چلا جائے کسی بھی طرح کی آسائشیں اسے میسر ہوں وہ ان کا تقابل اپنے موسموں،کھانوں، روایات، قوانین، گلی کوچوں اور ترقی و تنزلی کی وجوہات سے ضرور کرتا ہے۔
“چینی معاشرے میں بھی تمام معاشروں کی طرح توہمات پائی جاتی ہیں۔ جن سے نجات کے لیے چینی لوگ نئے سال کی آمد پر انے گھروں کی خوب صفائی کرواتے ہیں۔ دعا کے رحجان اور دھیان میں بھی مماثلت متاثر کن لگی۔ اور نئے سال کے موقع پر سرخ لفافے میں تحائف دینے کی روایت بھی خوب ہے۔ ص, 133
” چین میں سخت سردیوں میں تربوز کی دستیابی حیران کن ہے۔ ”
” یہاں پاکستان کے برعکس قابل کاشت رقبہ کم ہے۔ اس قدر کم رقبہ سے اتنی پیداوار حاصل کرنا اور ملکی ضروریات پوری کرنا کمال بات ہے۔ ”
“چین میں چاول بہت کھایا جاتا ہے۔ چین نے دنیا بھر میں چاول کی پیداوار میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔”
چین میں جب اصطلاحات نافذ کر کے صنعت و حرفت کے میدان میں حیران کن ترقی ہوئی جہاں مزدور کو بہترین ان سینٹیو دیا جاتا ہے۔ ٹریڈ اور فارن انویسٹمنٹ کو رواج دیا گیا ہے۔
” چین میں سب سے مقبول سیاسی جماعت کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ ہے۔ ”
جناب محمد کریم کی یہ چوتھی کتاب ہے۔ اس سے پہلے شائع ہونے والی کتب بھی تحقیق اور مشاہدے کی غماز ہیں۔ میں ان کی بصیرت اور بصارت کے روشن دریچے اس مضمون میں وا کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش کررہی ہوں لیکن مجھے بہت خوشی ہوئی کہ انہوں نے اپنی ملازمت کو سستی اور روٹین کے مطابق نہیں گزارا۔ بقول شاعر
سرسری تم جہان سے گزرے
ورنہ ہر جا جہان دیگر تھا
تو آپ بھی اس جہان ِ دیگر کی کھوج ضرور لگایا کریں۔ مصنف کے لیے نیک خواہشات، دعائیں






