خواتین کے خلاف تشدد ،زیادتی اوراغوا کے کیسز میں اضافہ
خواتین ڈے منانے سے بہتری نہ بھی آ سکے ۔۔۔۔ارباب اختیار مساٸل پہ توجہ تو دیں
رپورٹ:نوشین نقوی
پاکستان میں خواتین پر تشدد میں اضافہ، 2023 میں 10,201 کیسز رپورٹ، لاہور خواتین پر تشدد ، فیصل آباد زیادتی کے کیسز میں سرفہرست…..
8 مارچ 2024: سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن ( ایس ایس ڈی او ) کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق، پنجاب میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں 2023 میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ سال 2023 میں خواتین پرتشدد کے مقدمات کی تعداد 10,201 تک پہنچ گئی ہے، جو کہ 2022 میں رپورٹ ہونے والے 8787 کیسز سے 16 فیصد زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبے کے تمام اضلاع میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں، تاہم لاہور سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے جہاں 1464 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس کے بعد شیخوپورہ (1198) اور قصور(877) کا نمبر آتا ہے۔اسی طرح، صوبے میں ریپ کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 2023 میں ریپ کے کل 6624 کیسز رپورٹ ہوئے، جو کہ 2022 میں رپورٹ ہونے والے 5890 کیسز سے 12 فیصد زیادہ ہے۔ فیصل آباد 728 کیسز کے ساتھ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے، اس کے بعد لاہور (721) اور سرگودھا (398) ہیں۔
2023 میں پنجاب میں خواتین کے اغوا کے 626 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں لاہور (136)، فیصل آباد (30) اور وہاڑی (26) زیادہ متاثرہ علاقے ہیں۔غیرت کے نام پر قتل کے 120 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں رحیم یار خان (9)، جھنگ (8) اور راجن پور (8) زیادہ متاثرہ علاقے ہیں۔انسانی اسمگلنگ کے 20 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 19 چنیوٹ سے تھے۔
ایس ایس ڈی او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس نے کہا ہے کہ یہ اعداد و شمار پنجاب میں خواتین پر تشدد کی خوفناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں حکومت سے کئی سفارشات بھی کی گئی ہیں، جن میں خواتین کے خلاف تشدد کے قانون کو سخت بنانا، خواتین کے لیے تحفظ کے مراکز قائم کرنا، اور خواتین کے حقوق کے بارے میں آگاہی مہمات چلانا شامل ہیں ۔







