مستقبل کون؟مریم نواز یا بلاول بھٹو۔۔۔
سید محمد عمار کاظمی
پچھتر سیٹوں (جن میں سے کم و بیش پچیس سیٹیں دھاندلی زدہ ہیں) کے ساتھ وزارت اعلیٰ بھی وزارت عظمیٰ بھی. بظاہر یہ پاکستانی سیاسی تاریخ کی بہترین ڈیل ہے.
ہمارے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا کے نقش قدم پر چلتے پہلے کامیاب وزیر خارجہ بنے. گو انھوں نے نانا کی طرح مستعفی ہو کر کسی نئی جماعت کی بنیاد نہیں رکھی. مگر یہ طے ہے کہ ان کا سیاسی فلسفہ بالخصوص انسپائریشن ان کے نانا ہی ہیں. دوسری جانب مریم نواز وزیر اعلیٰ ہونگی مطلب ان کے لیے ان کے والد انسپائریشن تھے سو انھوں نے پہلے وزیر اعلیٰ بننا پسند کیا.
مریم بی بی کے لیے والد کے ساتھ ایک اور اتفاق اور مشابہت یہ بھی رہی کہ وہ بالکل اپنے والد کی طرح ایک متنازعہ الیکشن کے بعد وزیر اعلیٰ بننے جا رہی ہیں. ان کے والد جرنل ضیاء کی غیر جماعتی اسمبلی کے ذریعے پہلی مرتبہ وزیر اعلیٰ بنے تھے. غیر جماعتی انتخابات کی وجہ سے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا.
اس کے بعد وہ دوسری مرتبہ تب وزیر اعلیٰ بنے تھے جب انیس سو اٹھاسی میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات سازشی سوچ کے ساتھ دو دن کے فرق سے کروائے تھے.
یاد رہے اسٹیبلشمنٹ قومی اسمبلی کے انتخابات میں تمام تر دھاندلی کے باوجود میاں صاحب اور ان کے اتحادیوں کو اکثریت دلوانے میں ناکام رہی تھی.
میاں نواز شریف کی ابتداء بھی ایسی ہی کمزور متنازعہ سیاست سے ہوئی تھی جیسی آج مریم کی ہو رہی ہے. مگر پھر تسلسل کے ساتھ پنجاب میں حکومتیں ملنے کے بعد وہ قدم جمانے میں کامیاب ہوتے چلے گئے. اور بالآخر مختلف جرنیلوں کے ساتھ اختلافات کے بعد حکومتوں سے نکلنے کے بعد عوام بالخصوص تاجر برادری کی ایک بڑی تعداد نے بھی انھیں جمہوری لیڈر بھی ماننا شروع کر دیا.
کمزور یادداشت لوگوں کی اکثریت ان کی آمد بھول چکی. ان کی بنیاد فراموش کر چکی. ان کے کامیاب ہونے کی وجوہات بھول چکی.
یاد رہے شہید بی بی میاں نواز شریف صاحب کو واپس لائیں اور میاں صاحب ان کی شہادت کے بعد کالا کوٹ پہن کر میمو گیٹ لے آئے تھے. یہ محض ایک چھوٹی سی یاد دہانی ہے ورنہ نواز لیگ نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو کوئی ایک بار دھوکہ نہیں دیا.
امیرالمومنین بننے کے خواہش رکھنے والے میاں نواز شریف کو گزشتہ دو دھائیوں میں پرویز رشید جیسے لیفٹ لبرلز کے چند معروف چہروں کی حمایت اور سپورٹ بھی حاصل ہوئی.
اور اب مریم بی بی وزیر اعلیٰ ہونگی. یاد رہے ان کے والد کے ایما پر ہی مولونا فضل الرحمن اور ان کے سکول کے دیگر علماء نے عورت کی حکمرانی کو خلاف اسلام گردانا اور پراپیگنڈا کیا تھا.
بہرحال ایک وسوسہ تو یہ بھی ہے کہ کیا پتہ مریم بھی اپنے والد کی طرح اور شہباز شریف اپنے بھائی کی طرح کچھ یوں اقتدار اور سیاست پر قابض ہوں کہ آنے والے وقتوں میں وہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے جائیں؟ آخر راجنیتی اقتدار کا کھیل ہے اور بنا اقتدار آپ ڈیلوپمینٹ اور دیگر عوامی امور تو بہر حال سرانجام نہیں دے سکتے.
باقی رہی پاکستان کے مستقبل کی بات تو مستقبل تو خدا ہی کے ہاتھ میں ہے اور وہی جانتا ہے کس کو باقی رہنا ہے اور کسے ختم ہونا ہے.
الیکشن میں میرے پوسٹر لگانے والے ٹھیکیدار نے بتایا تھا کہ جب آپ کا پوسٹر دیوار پر لگانے لگے تو اندر سے ایک عورت نے تلخ آواز میں پوچھا “کس جماعت دا پوسٹر لگا رہے او” اس نے جواب دیاں بے نظیر بھٹو آلی پارٹی دا” عورت بولی اچھا فیر اک لا لے پر نواز شریف آلی جماعت دا پوسٹر ساڈی کندھ تے نہ لگے”. بتانے کا مقصد ہے کہ لوگ پیپلزپارٹی کے ووٹر نہ سہی مگر وہ نواز لیگ کی طرح پیپلزپارٹی سے نفرت کا اظہار نہیں کر رہے تھے.
الیکشن میں سابق جیالوں اور پی ٹی آئی ووٹر سے جو سوال تواتر کے ساتھ سننے کو ملا وہ یہی تھا کہ آپ کی جماعت پی ڈی ایم کا حصہ کیوں بنی تھی؟ اس نے نواز لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ کیوں دیا تھا؟ وہ کہتے تھے اگر آپ کی جماعت پی ڈی ایم کا حصہ نہ بنی ہوتی تو ہم پی ٹی آئی کی بجائے آپ کو ووٹ دیتے کیونکہ آپ ان کے امیدوار سے بہتر ہیں. خدا جانے وہ جھوٹ بول رہے تھے یا سچ.
بہرحال چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا فیصلہ سر آنکھوں پر. خدا کرے یہ فیصلہ ملک و قوم اور پاکستان پیپلزپارٹی کی آئندہ سیاست کے لیے بہتر ثابت ہو! آمین






