ہماری حب الوطنی بھارتی فلموں سے مشروط۔ کیوں۔۔۔؟
بھارت جوان،پٹھان،ڈنکی،اینیمل، ٹائیگر ون ٹو تھری،آرآرآر،جیلرجیسی فلمیں بنا کے دنیا کو اپنی ثقافت ،کلچراور کہانیوں سے ملارہا ہے،آج بھی سوا ارب سے زائد آبادی کے لاکھوں جان لڑکے لڑکیاں فلموں میں کام کرنے کے شوق میں گھر بار چھوڑ کرہیرو بننے ممبئی آتے ہیں ،شہر آباد ہیں اورسینما گھروں کا فسوں بھی قائم ہے۔
نوشین نقوی
جب بھی پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش کے بارے میں بات کی جائے یا آواز اٹھائی جائے ایک قیامت کھڑی ہوجاتی ہے ۔ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ ہم صرف اسی طرح ہی محب وطن نظر آ سکتے ہیں جب ہم خود کو بھارتی فلموں سے دور رکھیں۔اس کے باوجود کہ اس وقت نیٹ فلیکس ،پرائم ایمازون جیسی ایپس کے بعد خودکو بھارتی فلموں کے چھل کھپٹ سے بچانا ناممکن ہے پھر بھی ہم ایمان کی کمزور ترین شکل یعنی دل سے برا سمجھنے کو ہی کافی مان چکے ہیں۔ میں تو سمجھتی ہوں انڈین فلمیں پاکستان میں ریلیز نہ ہونے کا کچھ تو فاٸدہ ہونا چاہٸے ہمیں حب الوطنی کے دس گریس مارکس دٸیے جاٸیں۔۔۔۔مگر فی الحال ایسا کچھ ہوتا بھی نظر نہیں آ رہا ۔
ایک طرف بھارتی سینما نئے دور سے گزر رہا ہے جہاں ان کی بنائی کی گئی کامیاب یا ناکام ہر طرح کی فلموں کے لئے نہ صرف دنیا بھر کے بڑے بڑے سینماز اپنی باہیں وا کئے بیٹھے ہیں بلکہ نیٹ فلیکس ،ایمازون پرائم اور کئی بین الاقوامی درجے کی ایپس بھی منی مانگے داموں انڈین کانٹینٹ خریدے جا رہی ہے۔مگر ہم یا ہماری فلمیں کہاں ہیں۔۔؟
یقینا کہیں نہیں۔سعودی عرب اور یو اے ای کے سینماز بھارتی فلموں کی منڈی بن چکے ہیں مگر ہماری جذبہ ایمانی سے لبریز فلمیں کوئی بھائی چارے میں دکھانے کو بھی تیار نہیں۔جس کی بڑی وجہ ہمارے فلم میکرز کے پاس وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ مسائل کی زیادتی بھی ہے۔سید نور،مومنہ درید،جاوید جبار،مہرین جبار،شعیب منصور،سرمد کھوسٹ،بلال لاشاری ،ہمایوں سعید ،شمعون عباسی علی سجاد ابو علیحہ،شرمین عبید چنائے ،نبیل قریشی جیسے چند نام مجاہدین کی طرح پوری انڈسٹری کا بوجھ اپنے پر شوق کندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں۔مگریہ سب مل کر سوائے شوق کے سینما کی کسی ضرورت کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔دوسری جانب بھارت میں جوان،پٹھان،ڈنکی،اینیمل، ٹائیگر ون ٹو تھری،آرآرآر،جیلرجیسی فلمیں بنا کے دنیا کو اپنی ثقافت ،کلچراور کہانیوں سے ملاتے جا رہے ہیں۔ہر قدکاٹھ اور ہر عمر کے ہیرو ،ہیروئین کے پاس کام ہے۔آج بھی سوا ارب سے زائد کی آبادی کے لاکھوں جان لڑکے لڑکیاں فلموں میں کام کرنے کے شوق میں گھر بار چھوڑ کرممبئی آتے ہیں اورنہ صرف شہر آباد ہیں بلکہ سینما گھروں کا فسوں بھی قائم ہے۔
ایسی بڑی ،ٹیکنالوجی سے بھرپورفلمیں جن سے ہمارے پروڈیوسرز کچھ سیکھ سکتے تھے وہ پراکسی پہ ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔۔۔کیونکہ ہمارا یہی نعرہ ہے انڈین فلموں کا باٸیکاٹ کرو۔ یہی حب الوطنی ہے۔اپنا کچھ بھی نہ بنانا اور پکا پکایا بھی نہیں کھانا۔۔۔۔مہنگے تعلیمی اداروں میں فلم میکنگ پڑھانے والے بھی مجھ جیسے ہی ہیں۔۔۔جن کو بڑی اسکرین کے پریشریا بخار کا اندازہ بھی انڈین جریدے پڑھ کے ہوتا تھا۔۔۔گزشتہ چند برسوں میں چند مجاہد پروڈیوسرز،ڈاٸریکٹرز نے اپنے آپ ہی کچھ چوری چھپے تجربات کر لٸےہوں تو یہ بھی بہت بڑا کنٹری بیوشن ہے۔۔۔ایسی فلمز یا بجٹ ہم کیا جانیں۔۔۔۔۔








