ایون فیلڈ، لیول فیلڈ، عدل فیلڈ۔۔۔
محاسبہ
ناصرجمال
سوچا یہ تھا وقت ملا تو ٹوٹی چیزیں جوڑیں گے
اب کُونے میں ڈھیر لگا ہے باقی کمرا خالی ہے
بیٹھے، بیٹھے پھینک دیا ہے آتش دان میں کیا کیا کچھ
موسم اتنا سرد نہیں تھا جتنی آگ جلالی ہے
دیر سے قُفل پڑا دروازہ اک دیوار ہی لگتا تھا
اس پر ایک کُھلے دروازے کی تصویر لگا لی ہے
اُوپر سب کچھ جل جائے گا کون مدد کو آئے گا
جس منزل پر آگ لگی ہے سب سے نیچے والی ہے
اک کمرہ سایوں سے بھرا ہے اک کمرہ آوازوں سے
آنگن میں کچھ خواب پڑے ہیں ویسے یہ گھر خالی ہے
(ذوالفقار عادل)
قاضی القضا کہہ رہے ہیں۔ عام انتخابات کے حوالے سے میڈیا مایوسی نہ پھیلائے۔ عدالتوں کے کہنے پر عمران خان سے،اُن کے بچوں کی بات نہیں کروائی جارہی۔ قوم کو کہا جارہا ہے کہ وہ عدالتی فیصلوں سے عام انتخابات کی مضبوط توقعات باندھ لے۔
فواد چوہدری کو جیسے، انتخابات کا اعلان ہوتے ہی، گھر سے اٹھایا گیا۔ انتہائی بھونڈا مقدمہ بنانے کے بعد، جیسے عدالت میں کپڑا ڈال کر دہشتگردوں کی طرح پیش کیا گیا ہے۔
وہ طاقت کے مراکز کی جانب سے عام انتخابات کا ’’بروقت اور واضح جواب‘‘ ہے۔ عام انتخابات کا صاف، شفاف، منصفانہ ہونا تو بہت بعد کے مرحلے ہیں۔
مظلوم صحافیوں کو کہا جارہا ہے۔ مزید مثبت رپورٹنگ جاری رکھیں۔
پانچ سال پہلے، صحافیوں نے آئی۔ ایس۔ پی۔ آر’’شریف‘‘ کے کہنے پر اتنی مثبت رپورٹنگ کی کہ ’’عوام نے اُن پر اعتبار ہی کرنا چھوڑ دیا۔
اب نئی فرمائش، قاضی القضا کی جانب سے آگئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں صحافیوں کو اپنے قلم اور سوچ، رجسٹرار آفس میں جمع کرروانے کا حُکم دیا گیا ہے۔ صحافی، اتنی مثبت رپورٹنگ کریں کہ قوم ’’مثبت نتائج‘‘ کو آنکھیں بند کرکے تسلیم کرلیں۔
پاکستان میں عام انتخابات کا ورلڈ کپ، تاریخ کا اعلان ہوتے ہی متنازعہ ترین ہونا شروع ہوگیا ہے۔
برادرم فیصل کریم کنڈی نے مریم اورنگزیب کو کہا ہے کہ ہم سیاسی لیول پلیئنگ فیلڈ کی بات کرتے ہیں۔ ان کو ایون فیلڈ سمجھ آتی ہے۔ جب سے یہ بیان پڑھا ہے۔ ہنسی رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ ایس میں خبر آئی ہے کہ لندن پلٹ نواز شریف اور آصف زرداری کی فون پر بات ہوئی ہے۔ جس میں بالمشافہ ملاقات کا ’’پکا عہد‘‘ کیا گیا ہے۔
جبکہ یہ بھی شنید ہے کہ دونوں لیڈر عوام کی حالت زار پر دھاڑیں مار، مار کے اتنا روئے کہ صرف دونوں لیڈروں کی ہی نہیں، ساتھ میں موجود سیاسی لیڈرشپ کی بھی ہچکیاں بندھ گئیں۔ کئی خواتین کی تو، بے ہوش ہونے کی بھی ’’اطلاعات‘‘ ہیں۔
دو، دن پہلے ناہید خان سے بات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ماحول میں انتخابات کروانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ سیاسی عدم استحکام اور بڑھے گا۔ ’’مثبت نتائج‘‘ حاصل کر بھی لئے گئے، تو بھی، قوم اور ملک کے حصے میں مثبت نتائج نہیں آئیں گے۔ معیشت اور تباہ ہوگی۔ عام آدمی کی زندگی اور اجیرن ہوگی۔
صاف ستھرے لوگوں پر مشتمل قومی حکومت بنا کر، اگلے دس سے پندرہ سال انتخابات کا نام بھی نہ لیں۔ معیشت، معیشت اور معاشرہ سرفہرست ہونا چاہئے۔ ’’ہماری نسل‘‘ سے اس’’سیاست‘‘ کی جان چھوٹ جائے گی۔
اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پرانے سیاسی چہرے کوئی تبدیلی آئے گی تو آپ کی خوش فہمی ہے۔ 1996ء کے بعد، اس ملک میں جمہوریت آئی ہی نہیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے جو کیا، سو کیا، سیاستدانوں نے کیا، کیا کچھ بھی نہیں سیکھا۔۔۔۔۔؟
ناہید خان بہت رنجیدہ تھیں۔ وہ ریاست اور عوام کے مستقبل کی بات کررہی تھیں۔ انھیں آگے کہیں پر روشنی نظر نہیں آرہی۔ ملک میں جاری، حالیہ واقعات کی ترتیب انھیں، زیادہ پریشان کررہی۔ ان کا خیال ہے کہ جاری نظام سے اس ملک کو کچھ اچھا ملنے کی توقع ہی عبث ہے۔ معاشرے میں گھٹن بڑھتی جارہی ہے۔ یہ اچھی نشانی نہیں ہے۔
قارئین!!!
لوگ جس کو بے حسی اور لاتعلقی کہتے ہیں۔ یہ ایک خوفناک عنصر ہے۔ نوجوان مایوس ہوکر ملک سے بھاگ رہے ہیں۔ پروفیشنلز کی بڑی تعداد ہجرت کررہی ہے۔ جو نہیں جا پارہے۔ وہ ملک میں جاری حالات سے بددل ہورہے ہیں۔
بزرگوار اور سینئر صحافی الیاس چوہدری کہہ رہے تھے۔ ملک میں جاری حالات سے، صاحب شعور طبقہ، شدید تکلیف میں ہے۔ وہ چاہے تو بھی تو اسے ٹھیک نہیں کرسکتا۔ مگر پھر بھی، وہ اس سے الگ تھلگ نہیں رکھ سکتا۔
ہماری جان پر دوہرا عذاب ہے محسن
کہ دیکھنا ہی نہیں ہم کو سوچنا بھی ہے
(محسن نقوی)
ویسے امجد اسلام امجد نے بھی خوب ہی کہا تھا کہ
یہ جو !!! آگہی کا سراب ہے
یہی سب سے بڑھ کر عذاب ہے
آپ اپنے گھروں میں بزرگوں کو دیکھیں۔ پروفیشنلز کو دیکھیں۔ آپ کو نظر آئے گا۔ وہ پریشان ہیں۔ حالانکہ، انھیں فرق نہیں پڑنا چاہئے۔ اس وقت، ایک سوچ ہے۔ جو سب کے اندر موجود ہے کہ آخر، ہوکیا رہا ہے۔ یہ کب تک چلے گا۔مجھے یقین کامل ہے کہ آج پوری قوم کو اچھی طرح سے ادراک ہے کہ ہم بُرے طریقے سے پھنس چکے ہیں۔ حالات نہیں سنبھلیں گے۔ ہم بہت بُرا کھیل رہے ہیں۔ ہم انا، ضد، ہٹ دھرمی کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔ باہر نکلنے کے لئے، بوقوفانہ طریقےاختیار کرتے ھوئے، اناڑیوں کی طرح زور لگا رہے ہیں۔ بدنیتی نے ہماری کھٹیا کھڑی کردی ہے۔ مگر ہم صحیح راستہ اور سوچ اپنانے کو تیار نہیں ہیں۔
ہمارے عظیم دماغوں نے مسائل کا حل، نواز شریف کی واپسی سوچا ہے۔ کچھ کے نزدیک، عمران خان کی بیعت حالات کو درست کرنے کے لئے کافی ہوگی۔ جبکہ بہت سوں کے نزدیک زرداری’’ماڈل‘‘ ہی مسائل کا حل ہے۔ جس میں سب کو کُھلی چھٹی ہوتی ہے۔
آخر، ہم کن لوگوں میں پھنس گئے ہیں۔ کئی لوگوں کو ’’سہولت کاری‘‘ بزنس کونسل کے ’’ڈنڈے‘‘ میں معاشی انقلاب، دھلیز پرکھڑا نظر آرہا ہے۔ وہ روزانہ ڈنڈا چلاتے ہیں۔ مگر مسائل جوں کے توں ہیں۔
احد چیمہ اور فواد حسن فواد ماڈل منہ کے بل گرے گا۔ خبریں آرہی ہیں کہ حسب منشا کی عزیز ھستی کو ’’حسب منشا‘‘ پی۔ آئی۔ اے کی ہر چیز کھول کر دکھا دی گئی ہے۔
میں نے تو پہلے بھی لکھا ہے کہ پی۔ آئی۔ اے کی نجکاری نہیں حرامکاری ہونے جارہی ہے۔ کون ہے جو پی۔ آئی۔ اے کو اسٹیٹ بینک سے ڈالر نہیں لینے دے رہا۔ پی۔ ایس۔ او کیسے پیٹرول بند کرسکتا ہے۔
آئی۔ پی۔ پیز کو سپلائی کیوں بند نہیں ہوتی۔ کے الیکٹرک کو گیس سپلائی بند نہیں ہوتی۔ اسٹیل ملز کو ہی گیس سپلائی بند کرکے، کون برباد کرتا رہا ہے۔
وہی پرانے فنکار آگئے ہیں۔ جن کا اب صرف، ایک کام ہے کہ کسی بھی طرح سے، عوام کے ’’سلور گولڈ‘‘ کو کیسے ہڑپ کیا جائے، نجکاری کا مطلب، لوٹ مار اور ’’اپنے لوگوں‘‘ کو سب کچھ لوٹ کر پیش کرنا، کب سے ہوگیا۔
اگر اسٹیبلشمنٹ اور ان کے ایجاد کردہ سیاستدانوں سے یہ معیشت چلتی تو ہمیں آج امریکہ سے بھی آگے نکل جانا چاہئے تھا۔ ڈیپ اسٹیٹ، ہم سب کچھ کرسکتے ہیں، کی سوچ سے باہر نکلنا ہوگا۔ اسٹیبلشمنٹ کو، اپنے اس ناکام تجربے کو آخری تجربہ مان کا توبہ تائب ہونا ہوگا۔
اب نہ تو وقت ہے اور نہ ہی مزید تجربے کی گنجائش ہے۔ راستہ ایک ہی ہے کہ آپ اپنے، آپ کو اپنے اصل کام تک محدود کریں۔ کاروباروں سے دستبردار ہو جائیں۔
ملک کو ایک نظام دے دیں۔ صدارتی نظام لے آئیں۔ صوبے ختم ہونے چاہئیں۔ تحصیل سب سے بڑا، یونین کونسل سب سے چھوٹا یونٹ ہو۔ تمام ترقیاتی کام یہاں ہوں۔ پچاس فیصد ترقیاتی بجٹ تحصیل اور پچاس فیصد یونین کونسل کو منتقل کریں۔ تحصیل اور یونین کونسل کا 30 سالہ ترقیاتی ماڈل بنائیں، بہت ہوچکا۔
پارلیمنٹ اور سینٹ کے انتخابات متناسب نمائندگی پر ہوں۔ بلدیاتی انتخابات حلقے پر کروالیں۔ پارلیمنٹ میں صرف قانون سازی، پالیسی میکنگ اور مشترکہ پارلیمانی اوررسائیٹ کے علاوہ کچھ نہ ہو۔ امریکی طرز پر انتظامیہ صدر،باہر سے لے سکے۔ اس کے ساتھ پندرہ ہزار سیاسی نوکریاں طے کریں۔ وہ جائے تو یہ لوگ بھی اُس کے ساتھ جائیں۔
ہر شہر کا ماسٹر پلان بنائیں۔ مقامی لوگوں کو مقامی نوکریاں دیں۔ اس کا نظام بنائیں۔ ہر تحصیل کی انتظامیہ الگ ہو۔ انتظامی باس، ایک ہوناچاہئے۔ تھانہ، پٹواری سسٹم ختم کریں۔ سرکاری دستاویزات کو آسان ترین بنائیں۔ زراعت، زرعی صنعتوں اور صنعتوں کے حوالے سے زوننگ کریں۔ سمال اور میڈیم انڈسٹری پر توجہ دیں۔
قارئین!!!
طاقت کے مراکز کے ضد، انا، ہٹ دھرمی چھوڑنا ہوگی۔ ایوب خان، ضیاء الحق، مشرف کہاں ہیں۔ بھٹوز، جونیجو، حسین شہید سہروردی جیسے خاک میں پنہاں ہوگئے۔
آپ کوئی عمر خضر نہیں لکھوا کر لائے۔ اپنے باسز اور لیڈروں سے نشان عبرت پکڑیں۔ ریاست پاکستان کو چلنے دیں۔
شہر کا شہر بے زار کہاں جائوں میں
اور تنہائی ہے دشوار کہاں جائوں میں
تو جو کہتا ہے کہ یہ خاک وطن تری ہے
میں کہاں پر ہوں میرے یار کہاں جائوں میں
اک افکار یہ موقف میں سارے قصے
میں کہاں صاحب کردار؟ کہاں جائوں میں
پارسا خواب سبھی اس کی تصرف میں رہے
رات بھی ہوگئی بدکار، کہاں جائوں میں
کوئی منزل تیری نیت سے کبھی روشن ہو
اے میرے قافلہ سالار کہاں جائوں میں
جتنے منکر تھے تیرے سارے فرشتے نکلے
ایک میں تیرا، ’’گنہگار‘‘ کہاں جائوں میں
(خورشید اکبر)







