غزہ کی پٹی:سکندر اعظم سے لے کر سلطنتِ عثمانیہ تک جنگجوئوں کی آماجگاہ

(ویب ڈیسک ۔یہ پاکستان)
غزہ کی پٹی روئے زمین پر سب سے گنجان آباد اور غربت زدہ علاقوں میں سے ایک ہے۔ غزہ کی تاریخ ایسی متعدد مسلح تنازعوں سے بھری ہوئی ہے جنھوں نے اس خطے کی حالیہ تاریخ تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا۔لیکن اس چھوٹی سی پٹی کی اپنی تاریخ کیا ہے جسے انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور خود فلسطینی بھی ’دنیا کی سب سے بڑی کُھلی جیل‘ قرار دیتے ہیں۔ستمبر 1992 میں اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن نے ایک امریکی وفد سے ملاقات میں کہا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ غزہ سمندر میں غرق ہو جائے لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ ناممکن ہے، چنانچہ ہمیں کوئی حل نکالنا ہو گا۔
اکتالیس کلومیٹر طویل اور دس کلومیٹر چوڑی غزہ کی پٹی اسرائیل، مصر اور بحیرہ روم کے بیچ موجود ہے جہاں 23 لاکھ لوگ بستے ہیں، اسی لیے اسے دنیا کے گنجان ترین علاقوں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔
غزہ کی تاریخ تقریبا چار ہزار سال پرانی ہے اور اس کی کہانی بیرونی حملوں اور قبضوں سے بھری ہوئی ہے۔ مختلف زمانوں میں مختلف سلطنتوں نے اس پر حکومت بھی کی اور اسے تاراج بھی کیا جن میں قدیم مصر سے لے کر سلطنت عثمانیہ تک دنیا کی طاقتور حکومتیں شامل رہیں۔
غزہ کو سکندر اعظم، رومیوں اور پھر مسلمانوں نے عمر ابن العاص کی سربراہی میں فتح کیا اور یوں ترقی اور تباہی کے اس سفر میں غزہ میں آباد ہونے والوں اور ان کی مذہبی شناخت بھی وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ بدلتی رہی۔
سنہ 1917 تک غزہ سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا جس کی پہلی عالمی جنگ میں شکست کے بعد یہ علاقہ برطانیہ کے زیر اثر آیا۔ سنہ 1919 کی پیرس امن کانفرنس میں فاتح یورپی طاقتوں نے ایک متحدہ عرب سلطنت کے قیام کو روکنے کے لیے پورے خطے کو تقسیم کر دیا۔
غزہ ’برٹش مینڈیٹ‘ کا حصہ بنا جو 1920 سے 1948 تک وجود میں رہا۔ تاہم دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے فلسطین کے مقدر کا فیصلہ نئی نویلی اقوام متحدہ کی جھولی میں ڈال دیا۔
سنہ 1947 میں اقوام متحدہ نے ایک قراردار کے ذریعے فیصلہ کیا کہ فلسطین کو تین حصوں میں بانٹ دیا جائے۔پچپن فیصد علاقے پر یہودی اپنی ریاست بنا لیں، بیت المقدس کو عالمی مینڈیٹ کے زیرِ اثر رکھا جائے اور باقی ماندہ حصہ بشمول غزہ مقامی عرب باشندوں کے حصے میں چلا جائے۔مئی 1948 کو جب اس قراردار نے فلسطین سے برطانوی راج کا خاتمہ کیا تو اسی دن اسرائیل کی آزاد ریاست قائم کر لی گئی اور یوں پہلی عرب اسرائیل جنگ کا بھی آغاز ہوا جس میں لاکھوں مقامی فلسطینی بے گھر ہوئے اور غزہ کی پٹی میں بس گئے۔پہلی عرب اسرائیل جنگ کا خاتمہ ہوا تو غزہ کی پٹی پر مصر کا قبضہ ہو چکا تھا جو 1967 تک برقرار رہا۔ سنہ 1967 کی چھ روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے مصر اور شام پر مشتمل متحدہ عرب ریپبلک سمیت اُردن اور عراق کو شکست دی اور غربِ اُردن اور مشرقی بیت المقدس سمیت غزہ پر بھی قبضہ کر لیا۔اسرائیل کی اس فتح نے پرتشدد واقعات کے ایک ایسے تسلسل کو جنم دیا جو آج تک رُک نہیں سکا۔ اسرائیل کے خلاف پہلی فلسطینی انتفادہ تحریک کا آغاز 1987 میں غزہ سے ہی ہوا۔ اِسی سال حماس وجود میں آئی تھی۔
سنہ 1993 میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امریکی ثالثی میں اوسلو معاہدہ ہوا تو ’فلسطین نیشنل اتھارٹی‘ کا قیام ہوا جسے غزہ کی پٹی اور غربِ اردن کے چند علاقوں میں محدود خودمختاری دی گئی۔ اسرائیل نے 2005 میں دوسری اور پہلے سے زیادہ پرتشدد انتفادہ تحریک کے بعد غزہ کی پٹی سے فوج اور 7000 یہودی آبادکاروں کا انخلا کیا۔ایک ہی سال بعد حماس نے انتخابات میں فلسطینیوں کی دوسری تنظیم ’فتح‘ کو شکست دی اور یوں دونوں کے درمیان طاقت کی جنگ کا آغاز ہو گیا جس میں ایک جانب فلسطینی صدر محمود عباس اور ان کی فتح جماعت تھی تو دوسری جانب حماس۔ تاہم حماس تین جنگوں اور 16 سال کے اسرائیلی محاصرے کے باوجود اب تک غزہ میں برسرِ اقتدار ہے۔

اسرائیل، امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ سمیت کئی ممالک حماس یا اس کے عسکری ونگ کو دہشت گرد قرار دے چکے ہیں تاہم اسے ایران کی حمایت اور معاشی مدد حاصل ہے جو اسلحہ اور تربیت بھی فراہم کرتا رہتا ہے۔حماس کے برسر اقتدار آنے کے بعد اسرائیل اور مصر نے غزہ کا زمینی، فضائی اور سمندری محاصرہ کر لیا۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مطالبے کے باوجود اسرائیل نے 2007 سے اس محاصرے کو ختم نہیں کیا۔اس محاصرے کی وجہ سے فلسطینیوں کی نقل وحرکت پر قدغنیں لگ گئیں۔ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے باہر نکلنے پر پابندی عائد ہے اور صرف طبی ایمرجنسی میں ہی کسی کو باہر نکلنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے غزہ کی پٹی میں حالات کا موازنہ کرتے ہوئے اسے ’کُھلی جیل‘ قرار دیا۔ اسرائیل کے مطابق غزہ کی سرحدوں پر مصر کی مدد سے ان پابندیوں کے اطلاق سے اسرائیلی شہریوں کو حماس سے بچانا مقصود ہے۔
بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس اس محاصرے کو جنیوا کنوینشن کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے جبکہ اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق تنظیموں نے بھی اس محاصرے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ اب تک اسرائیل کے قبضے میں ہے۔اس محاصرے کے خلاف حماس نے زیر زمین سرنگوں کا ایک جال بچھا رکھا ہے جن کے ذریعے سامان اور اسلحہ غزہ کے اندر لے جایا جاتا ہے۔ اسرائیل ان سرنگوں کو ایک خطرہ سمجھتا ہے اور اکثر فضائی حملوں میں ان کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

اسرائیل، امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ سمیت کئی ممالک حماس یا اس کے عسکری ونگ کو دہشت گرد قرار دے چکے ہیں تاہم اسے ایران کی حمایت اور معاشی مدد حاصل ہے جو اسلحہ اور تربیت بھی فراہم کرتا رہتا ہے۔حماس کے برسر اقتدار آنے کے بعد اسرائیل اور مصر نے غزہ کا زمینی، فضائی اور سمندری محاصرہ کر لیا۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مطالبے کے باوجود اسرائیل نے 2007 سے اس محاصرے کو ختم نہیں کیا۔اس محاصرے کی وجہ سے فلسطینیوں کی نقل وحرکت پر قدغنیں لگ گئیں۔ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے باہر نکلنے پر پابندی عائد ہے اور صرف طبی ایمرجنسی میں ہی کسی کو باہر نکلنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے غزہ کی پٹی میں حالات کا موازنہ کرتے ہوئے اسے ’کُھلی جیل‘ قرار دیا۔ اسرائیل کے مطابق غزہ کی سرحدوں پر مصر کی مدد سے ان پابندیوں کے اطلاق سے اسرائیلی شہریوں کو حماس سے بچانا مقصود ہے۔
بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس اس محاصرے کو جنیوا کنوینشن کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے جبکہ اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق تنظیموں نے بھی اس محاصرے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ اب تک اسرائیل کے قبضے میں ہے۔اس محاصرے کے خلاف حماس نے زیر زمین سرنگوں کا ایک جال بچھا رکھا ہے جن کے ذریعے سامان اور اسلحہ غزہ کے اندر لے جایا جاتا ہے۔ اسرائیل ان سرنگوں کو ایک خطرہ سمجھتا ہے اور اکثر فضائی حملوں میں ان کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں